نُورِ ہدایت — Page 121
گیا ہے۔کیونکہ فرماتا ہے کہ سب تعریف اللہ تعالیٰ کی ہے کہ وہ مختلف انواع و اقسام کی مخلوق کو ادنی حالت سے اٹھا کر اعلیٰ تک پہنچاتا ہے اور یہ مضمون صحیح نہیں ہوسکتا جب تک ہر مقام اور درجہ سے اوپر کوئی اور درجہ تسلیم نہ کیا جائے۔(10) سب سے آخر میں یہ کہ اس سورۃ کو جو سب سے پہلی سورۃ ہے اور قرآن کریم کے مطالب کا خلاصہ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سے شروع کر کے یہ بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کامل حمداب شروع ہوگی کیونکہ اسلام جو رَبُّ العالمین کی صفت کا کامل مظہر ہے سب دنیا کی طرف آیا ہے اور جسمانی عالم کی طرح روحانی عالم میں بھی اتحاد پیدا کر دیا گیا ہے۔پہلے جب مختلف اقوام کی طرف الگ رسول آتے تھے بعض نادان متبع دوسرے انبیاء کی تعلیم کو غلط سمجھ کر ان کی تردید کرتے تھے۔ہندو کہتے ہم یہووا کو نہیں جانتے ، پرمیشور کو جانتے ہیں۔یہود پرمیشور پر ہنسی اڑاتے۔لیکن اسلام کے ظہور سے سب دنیا کے لئے ایک دین ہو گیا۔اور ہندی اور چینی اور مصری اور ایرانی اور مغربی اور مشرقی سب خدا کی تعریف میں لگ گئے اور یہ تسلیم کیا گیا کہ ہر قوم کا خدا الگ نہیں ہے بلکہ سب اقوام کا خدا ایک ہی ہے۔الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ ان دونوں صفات کا ذکر بِسمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ میں ہو چکا ہے پھر ان کو دُہرایا کیوں گیا ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ بسم اللہ میں ایک مستقل مضمون بیان ہوا ہے اور وہ ہر سورۃ کی کنجی ہے۔اس لئے سورۃ کے مضمون میں اگر اپنے موقعہ پر انہی صفات کو دوبارہ بیان کیا جائے۔تو یہ امر تکرار نہیں کہلا سکتا۔چنانچہ یہاں بھی اسی حکمت سے ان صفات کو دُہرایا گیا ہے۔رَبُّ الْعَالَمِينَ میں یہ مضمون بتایا گیا تھا کہ خدا تعالیٰ پیدا کر کے آہستہ آہستہ اور درجہ بدرجہ اعلیٰ ترقیات تک پہنچاتا ہے۔آیت زیر تفسیر میں الرحمٰنِ الرَّحِیم کے الفاظ سے طریق ربوبیت بتایا ہے اور وہ یہ کہ (1) اللہ تعالیٰ رحمن ہے اس نے ہر چیز کے لئے ایسے سامان پیدا کئے ہیں جو اس کی 121