نُورِ ہدایت — Page 1193
پس یہ اہمیت ہے سورۃ اخلاص کی۔اور جب ہم رات کو یہ پڑھیں تو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کوسامنے رکھتے ہوئے ہمیں یہ پڑھنی چاہئے۔جب ہم کہیں کہ خدا تعالی آحد ہے تو ساتھ ہی اس کے صمد ہونے کا مقام بھی اور مرتبہ بھی ہمارے سامنے آنا چاہئے۔صمد وہ چیز ہے جو کسی کی محتاج نہیں ہے اور کبھی ختم ہونے والی نہیں ہے۔کبھی بلاک ہونے والی نہیں ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس بات کو اس طرح بیان فرمایا ہے کہ : صمد کے معنی ہیں کہ ”بجز اس کے تمام چیزیں ممکن الوجود اور هَا لِلةُ الذات ہیں۔“ ( براہین احمدیہ صفحہ 433- حاشیہ بحوالہ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام جلد نمبر 4 صفحہ 756) یعنی جو پیدا ہو سکتی ہیں اور ہوتی ہیں اور ختم ہونے والی ہیں انہیں فنا ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ کی ذات ایسی ہے جو صد ہے۔لوگ سمجھتے ہیں کہ صمد کا مطلب بے نیاز ہے۔بے نیازی اس کی یہ ہے کہ نہ وہ بلاک ہونے والا ہے، ختم ہونے والا ہے اور نہ اس جیسی کوئی چیز پیدا ہوسکتی ہے پس یہ ہمارا خدا ہے جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔اور آپ فرماتے ہیں کہ خدا اپنی ذات اور صفات اور جلال میں ایک ہے۔کوئی اس کا شریک نہیں۔سب اس کے حاجت مند ہیں۔ذرہ ذرہ اسی سے زندگی پاتا ہے۔وہ گل چیزوں کے لئے مبدء فیض ہے۔“ (یعنی دنیا کو فائدہ پہنچانے والی اور فیض دینے والی اسی کی ذات ہے۔اسی سے ہر فیض کے چشمے پھوٹتے ہیں ) اور آپ کسی سے فیضیاب نہیں ہوتا۔“ ( یعنی اس کو کوئی فیض پہنچانے والا نہیں ہے۔وہی ہے جو دنیا کو فیض پہنچا رہا ہے۔) وہ نہ کسی کا بیٹا ہے اور نہ کسی کا باپ۔اور کیونکر ہو کہ اس کا کوئی ہم ذات نہیں۔قرآن نے بار بار خدا کا کمال پیش کر کے اور اس کی عظمت دکھلا کے لوگوں کو تو جہ دلائی ہے کہ دیکھو ایسا خدا دلوں کو مرغوب ہے۔نہ کہ مردہ اور کمزور اور کم رحم اور کم قدرت۔“ اسلامی اصول کی فلاسفی صفحہ 103۔بحوالہ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام جلد نمبر 4 صفحہ 757) سورۃ اخلاص، سورۃ فلق اور سورۃ الناس کے نازل ہونے کے بارے میں حضرت عقبہ بن عامر سے روایت ہے۔وہ کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آج رات ایسی 1193