نُورِ ہدایت — Page 1187
پھر صحابہ کو ان سورتوں کی برکات اور اہمیت کا کس طرح احساس دلایا۔اس بارے میں حضرت عقبہ بن عامر بیان کرتے ہیں کہ میری رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوئی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آگے بڑھ کر میرا ہاتھ پکڑ لیا اور فرمایا اے عقبہ بن عامر۔کیا میں تمہیں تورات اور انجیل اور زبور اور فرقان عظیم میں جوسورتیں اتاری گئی ہیں ان میں سے تین بہترین سورتوں کے بارے میں نہ بتاؤں۔میں نے عرض کی۔کیوں نہیں۔اللہ مجھے آپ پر فدا کرے۔پھر آپ نے مجھے قُلْ هُوَ اللهُ اَحَدٌ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ اور قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الناس پڑھ کر سنائیں۔پھر فرمایا اے عقبہ ! تم انہیں مت بھولنا اور کوئی رات ایسی نہ گزارنا جب تک تو انہیں پڑھ نہ لے۔عقبی کہتے ہیں کہ جب سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ تو انہیں نہ بھولنا۔تو اس وقت سے میں انہیں نہیں بھولا اور میں نے کوئی رات ایسی نہیں گزاری جب تک میں نے انہیں پڑھ نہ لیا ہو۔( مسند احمد بن حنبل "مسند عقبہ بن عامر جلد 5 صفحہ 895-896 مطبوعہ بیروت۔ایڈیشن 1998 ء۔حدیث نمبر 17467) پس آپ کا یہ فرمانا کہ تم انہیں مت بھولنا اور کوئی رات ایسی نہ گزارنا کہ جب تک انہیں پڑھ نہ لو، صاف ظاہر کرتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی کس با قاعدگی کے ساتھ اس کو پڑھا کرتے تھے۔اللہ تعالیٰ کی باتوں پر، احکامات پر ، دعاؤں پر سب سے زیادہ عمل کرنے والے آپ صلی اللہ علیہ وسلم تھے اور تبھی آپ دوسروں کو فرمایا کرتے تھے۔پھر سورۃ اخلاص کی اہمیت کے بارے میں یعنی قُل هُوَ اللهُ أَحَدٌ جو سورت شروع ہوتی ہے اس کے بارے میں ایک حدیث میں اس طرح ذکر ملتا ہے۔حضرت ابوسعید خدری روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے ایک آدمی کو قُل هُوَ اللهُ أَحَدٌ پڑھتے ہوئے سنا جو اس کو بار بار پڑھ رہا تھا۔جب صبح ہوئی تو اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر ساری بات بیان کی اور گویا کہ وہ اس شخص کو کم یا چھوٹا سمجھ رہا تھا اس لئے شکایت کے رنگ میں بیان کیا۔اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔قسم ہے اس ذات کی جس 1187