نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 1186 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 1186

اور دشمنوں کے شر سے بچنے کے لئے بھی ایک انتہائی اہم فرض سمجھ کر توجہ دینی چاہئے۔اس ذکر اور آیات کی اہمیت بعض اور احادیث سے بھی ملتی ہے جو میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔جہاں تک آیتہ الکرسی کا تعلق ہے اس کے بارے میں دو جمعہ پہلے میں بیان کر چکا ہوں۔آج قرآن کریم کی آخری تین سورتوں کے بارے میں احادیث کے حوالے سے بات کروں گا۔کس طرح بار بار اور مختلف رنگ میں حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو ان سورتوں کے پڑھنے کے بارے میں تلقین فرمائی ہے۔ایک روایت میں آخری تینوں قل پڑھ کرجسم پر پھونکنے کے بارے میں حضرت عائشہ اس طرح بیان فرماتی ہیں۔فرمایا کہ ہر رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بستر پر لیٹتے تو اپنی ہتھیلیوں کو جوڑتے اور پھر ان پر پھونکتے اور ان میں یہ پڑھتے قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ۔وَقُلْ اَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ۔وقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ۔یعنی یہ تینوں سورتیں پڑھتے اور پھر جہاں تک ممکن ہوتا دونوں ہاتھوں کو جسم پر پھیرتے۔آپ اپنے سر اور چہرے سے دونوں ہاتھ پھیر نا شروع کرتے اور پھر جو جسم کا حصہ آ تاجہاں تک آپ کا ہاتھ جا سکتا تھا آپ تین بار ایسا کرتے۔( صحیح بخاری۔کتاب فضائل القرآن۔باب فضل المعوذات) آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا اہتمام اس با قاعدگی سے فرماتے تھے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری بیماری میں خود یہ دعائیں پڑھتیں اور آپ کے ہاتھوں پر پھونک کر آپ کے ہاتھ ہی آپ کے جسم پر پھیر تیں۔چنانچہ حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب بیمار ہوتے تو معوذات پڑھ کر اپنے اوپر پھونکتے۔کہتی ہیں جب آپ کی بیماری سخت ہوگئی تو میں یہ سورتیں آپ پر پڑھتی اور آپ کے ہاتھ ان کی برکت کی امید سے آپ پر پھیرتی۔( صحیح بخاری۔کتاب فضائل القرآن۔باب فضل المعوذات) پس یہ خیال حضرت عائشہ کو آنا یقیناً اس وجہ سے تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس میں بہت با قاعدہ تھے اور اس کی برکت کی اہمیت حضرت عائشہ پر خوب کھول کر واضح فرمائی تھی۔1186