نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 111 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 111

بسم اللہ میں یہ بتایا گیا ہے کہ جس مقصد کے لئے دُعا کی جائے وہ نیک ہو۔یہ نہیں کہ جور چوری کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرے تو وہ بھی قبول کر لی جائے گی۔خدا کا نام لے کر اور اس کی استعانت طلب کر کے جودُعا کی جائے گی لازماً ایسے ہی کام کے متعلق ہوگی جس میں اللہ کی ذات بندہ کے ساتھ شریک ہو سکتی ہو۔میں نے بہت لوگوں کو دیکھا ہے لوگوں کی تباہی اور بربادی کی دُعائیں کرتے ہیں اور پھر شکایت کرتے ہیں کہ ہماری دُعا قبول نہیں ہوئی۔اسی طرح ناجائز مطالب کے لئے دُعائیں کرتے ہیں اور پھر شکایت کرتے ہیں کہ دُعا قبول نہیں ہوئی۔بعض لوگوں نے جھوٹا جامہ زہد واثقا کا پہن رکھا ہے اور ناجائز امور کے لئے تعویذ دیتے اور دُعائیں کرتے ہیں حالانکہ یہ سب دُعائیں اور تعویذ عاملوں کے منہ پر مارے جاتے ہیں۔دوسرا اصل الْحَمدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلَمین میں بتایا ہے یعنی دُعا ایسی ہو کہ اس کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ کے دوسرے بندوں کا بلکہ سب دنیا کا فائدہ ہو یا کم سے کم ان کا نقصان نہ ہو اور اس کے قبول کرنے سے اللہ تعالیٰ کے حمد ثابت ہوتی ہو اور اس پر کسی قسم کا الزام نہ آتا ہو۔تیسرے یہ کہ اس میں اللہ تعالیٰ کی وسیع رحمت کو جنبش دی گئی ہو اور اس دُعا کے قبول کرنے سے اللہ تعالیٰ کی صفت رحمانیت ظاہر ہوتی ہو۔چوتھے یہ کہ اس دُعا کا تعلق اللہ تعالیٰ کی صفت رحیمیت سے بھی ہو یعنی وہ نیکی کی ایک ایسی بنیاد ڈالتی ہو جس کا اثر دنیا پر ایک لمبے عرصہ تک رہے اور جس کی وجہ سے نیک اور شریف لوگ متواتر فوائد حاصل کریں یا کم سے کم ان کے راستہ میں کوئی روک نہ پیدا ہوتی ہو۔پانچویں یہ کہ دُعا میں اللہ تعالیٰ کی صفت ملِكِ يَوْمِ الدّین کا بھی خیال رکھا گیا ہو۔یعنی دُعا کرتے وقت ان ظاہری ذرائع کو نظر انداز نہ کر دیا گیا ہو جو صحیح نتائج پیدا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے تجویز کئے ہیں کیونکہ وہ سامان بھی اللہ تعالیٰ نے ہی بنائے ہیں اور اس کے بتائے ہوئے طریق کو چھوڑ کر اس سے مدد مانگنا ایک غیر معقول بات ہے گویا جہاں تک اسباب ظاہری کا تعلق ہے بشرطیکہ وہ موجود ہوں یا ان کا مہیا کر نا دُعا کرنے والے کے لئے ممکن ہوان 111