نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 1169 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 1169

سورۃ الناس قرآن کریم کی آخری سورۃ ہے اور جب انسان سارا قرآن کریم پڑھ لیتا ہے تو اس کے دل میں گھمنڈ پیدا ہوسکتا ہے کہ اب تو میں نے سارا قرآن پڑھ لیا اور اب میں شیطان سے محفوظ ہو گیا ہوں اور کوئی ٹھو کر نہیں کھا سکتا۔اس قسم کے خیالات چونکہ تباہ کرنے کا موجب ہو سکتے ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے آخر میں فرمایا کہ اے بندے جسے اب قرآن کریم پڑھنا اور اسے ختم کرنا نصیب ہوا ہے تو یہ نہ سمجھ کہ تو شیطان کے پنجہ سے محفوظ ہو گیا ہے۔بالکل ممکن ہے کہ رب العالمین خدا کو دیکھ کر اور اس کی اس صفت کا اپنے آپ کو مورد پا کر تو ٹھو کر کھا جائے۔خدا کے فضل ہر انسان پر ہر گھڑی نازل ہورہے ہیں۔ایسا نہ ہو کہ جب قرآن پڑھ کر خدا کے فضلوں کی طرف تیری توجہ ہو اور اس وقت خدا کی ربوبیت تیرے لئے ظاہر ہو تو تو گھمنڈ میں آ جائے۔اور اس طرح ٹھوکر کھا جائے۔یاد رکھو کہ خدا رب الناس ہے۔اس کے فیوض معمولی سے معمولی انسان پر بھی ہورہے ہیں۔تجھ پر اگر کوئی فضل نازل ہوتا ہے تو اس وجہ سے کوئی گھمنڈ نہ کر اور ٹھو کر نہ کھا۔بلکہ سمجھو کہ جب تیرے دل میں خدا کی برکت اور فیوض حاصل کرنے کی تڑپ پیدا ہوئی تو خدا نے اپنی صفت ربوبیت کے ماتحت تجھ پر کچھ نازل کر دیا۔ہو سکتا ہے کہ اس وقت تک تیرے اندر پوری پاکیزگی نہ پیدا ہوئی ہو۔پس مجھے دعا کرنی چاہئے کہ میں اس خدا سے پناہ مانگتا ہوں جو سب کا رب ہے۔اور کہتا ہوں اے خدا جب تو میری حالت ناقص ہونے کی وجہ سے مجھ پر ناقص نعمتیں نازل کرتا ہے۔اور اس طرح ہمیشہ کے لئے نیک انجام ہونا مشکل ہے۔اس لئے میں تجھ سے ہی التجا کرتا ہوں کہ تو مجھ پر حقیقی رحمتیں نازل فرما اور ہر قسم کی ٹھوکروں سے بچا۔(ماخوذ از تفسیر کبیر زیر تفسیر سورة الناس) حضرت خلیفہ اسی الثانی رضی اللہ عنہ خطبہ جمعہ فرمودہ 26 ستمبر 1916 میں فرماتے ہیں: کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو بظاہر محبت کا سلوک کرتے ہیں لیکن چونکہ ان کا تعلق ملائکہ سے نہیں ہوتا اس لئے بجائے اس کے کہ کسی کو اوپر لے جانے میں مدد دیں۔اور نیچے 1169