نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 1160 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 1160

حاکموں کو انسان مختار مطلق کہنے لگ جاتا ہے۔اس پر فرمایا کہ مَلِكِ الناس اللہ ہی ہے۔پھر لوگوں کے وساوس کا یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ مخلوق کو خدا کے برابر ماننے لگ پڑتے ہیں اور ان سے خوف و رجا ر کھتے ہیں اس واسطے الہ الناس فرمایا۔یہ تین وساوس ہیں ان کے دُور کرنے کے واسطے یہ تین تعویذ ہیں۔الحکم جلد 5 نمبر 12 مورخہ 31 مارچ1901 ، صفحہ 10) حضرت خلیفہ المسح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حمد اس سورہ شریفہ میں اللہ تعالیٰ کی تین صفتوں کا بیان کیا گیا ہے۔ربّ مالك اله اور پھر ان ہر سہ صفات کے اُس پر تو کی طرف بالخصوص اشارہ کیا گیا ہے جو کہ انسان کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔۔۔۔وہ جو ہمارا رب ہے اور جو ہمارا ملک ہے اور سلطان ہے۔وہی اس لائق ہے کہ ہمارا الہ ہو اور معبود ہو، اسی کی عبادت کی جاوے، اسی سے اپنی حاجتیں مانگنی چاہئیں۔اور اسی کی تعریف کرتے ہوئے سر اس کے آگے جھکا یا جاوے۔اس دعا میں انسان اللہ تعالیٰ کے حضور میں حاضر ہو کر اپنے خدا کے ساتھ اس تعلق کو یاد کرتا ہے کہ اے خدا تو ہی میرا پرورش کنندہ ہے اور تو ہی میرا بادشاہ ہے اور تو ہی میرا معبود ہے۔پس میں تیرے ہی حضور میں اپنی یہ درخواست پیش کرتا ہوں کہ نیکی کے حصول کے بعد جو انسان کے دل میں ایسے بُرے خیالات آتے ہیں کہ اس کو نیکی سے پیچھے ہٹانا چاہتے ہیں ان خیالات کے شر سے مجھے بچا۔اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ وسوسوں کا پیدا ہونا ضروری ہے۔پر جب تک انسان ان کے شر سے بچا ر ہے یعنی ان کو اپنے دل میں جگہ نہ دے اور ان پر قائم نہ ہوتب تک کوئی حرج نہیں۔ایک دفعہ ایک شخص نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں عرض کی کہ میرے دل میں بُرے برے خیالات پیدا ہوتے ہیں۔کیا میں ان کے سبب سے گنہگار ہوں؟ فرمایا فقط بُرے خیال کا اٹھنا اور گزر جانا تم کو گنہگار نہیں کرتا ، یہ شیطان کا ایک وسوسہ ہے 1160