نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 1155 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 1155

دونوں سورتیں سورۃ الفلق اور سورۃ الناس ان دونوں کی تفسیر ہیں۔ان دونوں سورتوں میں اس تیرہ و تار زمانہ سے پناہ مانگی گئی ہے جبکہ مسیح موعود پر کفر کا فتویٰ لگا کر مَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ کا فتنہ پیدا ہوگا اور عیسائیت کی ضلالت اور ظلمت دنیا پر محیط ہونے لگے گی۔پس جیسے سورت فاتحہ میں جو ابتدائے قرآن ہے ان دونوں بلاؤں سے محفوظ رہنے کی دعا سکھائی گئی ہے۔اسی طرح قرآن شریف کے آخر میں بھی ان فتنوں سے محفوظ رہنے کی دعا تعلیم کی تا کہ یہ بات ثابت ہو جاوے کہ اول بآخر نسبتی دارد۔( الحکم جلد 6 نمبر 8 مورخہ 28 فروری 1902 ، صفحہ 5،4) ناس کا لفظ صرف گروہ پر بولا جاتا ہے سو جو گروہ شیطان کے وساوس کے نیچے چلتا ہے وہ دنبال کے نام سے موسوم ہوتا ہے۔اسی کی طرف قرآن شریف کی اس ترتیب کا اشارہ ہے کہ وه الْحَمْدُ لِلهِ رَبّ العلمین سے شروع کیا گیا اور اس آیت پر ختم کیا گیا ہے۔الذی ا يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ۔پس لفظ ناس سے مراد اس جگہ بھی دجال سوره ہے۔ماحصل اِس سورۃ کا یہ ہے کہ تم دجال کے فتنہ سے خدا تعالی کی پناہ پکڑو۔اس سورۃ سے پہلے سورۃ اخلاص ہے جو عیسائیت کے اصول کے رڈ میں ہے۔بعد اس کے رہ فلق ہے جو ایک تاریک زمانہ اور عورتوں کی مکاری کی خبر دے رہی ہے اور پھر آخرایسے گروہ سے پناہ مانگنے کا حکم ہے جو شیطان کے زیر سایہ چلتا ہے۔اس ترتیب سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ وہی گروہ ہے جس کو دوسرے لفظوں میں شیطان کہا ہے۔اور اخیر میں اس گروہ کے ذکر سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ آخری زمانہ میں اس گروہ کا غلبہ ہوگا جن کے ساتھ تقلت في العقد ہوں گی۔یعنی ایسی عیسائی عورتیں جو گھروں میں پھر کر کوشش کریں گی کہ عورتوں کو خاوندوں سے علیحدہ کریں اور عقد نکاح کو توڑیں۔خوب یاد رکھنا چاہئے کہ یہ تینوں سورتیں قرآن شریف کی دجالی زمانہ کی خبر دے رہی ہیں اور حکم ہے کہ اس زمانہ سے خدا کی پناہ مانگو تا اس شر سے محفوظ رہو۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ شرور صرف آسمانی انوار اور برکات سے دور ہوں گے جن کو آسمانی مسیح اپنے 1155