نُورِ ہدایت — Page 1145
سعودی عرب اور کویت کے علماء اور پاکستانی علماء پہنچ جاتے ہیں۔روپیہ پیسہ تو وہاں کی حکومتوں کا خرچ ہوتا ہے جو یہ علماء کو دیتے ہیں۔تیل کا پیسہ ہے سعودی عرب کے پاس بھی، کویت کے پاس بھی تو یہ بے انتہا خرچ کر رہے ہیں۔وہ لوگ جو پہلے عیسائی تھے یالا مذہب تھے یا صرف نام کے مسلمان تھے۔نہ کسی کو کلمہ پوری طرح پڑھنا آتا تھا اور نماز کا تو سوال ہی نہیں، قرآن کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ہمارے مبلغین معلمین نے جاکے ان کو کلمہ سکھایا۔جومسلمان تھے انہیں نما ز سکھائی ، قرآن پڑھنا سکھایا اور جو غیر مسلموں میں سے مسلمان ہوئے ان کو بھی مسجدیں بنا کر دیں۔بڑی غریبانہ چھوٹی سی مسجدیں بناتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں ہر جگہ بن جائے۔تو یہ لوگ وہاں پہنچ جاتے ہیں۔وہاں کے مقامی غیر احمدی مولویوں اور اماموں کو پیسے دیتے ہیں کہ یہاں سے احمدیت کے قدم اکھاڑنے کی کوشش کرو ہم تمہیں بہتر اور بڑی مسجد بناکے دیتے ہیں۔بہر حال اللہ تعالیٰ کا بڑا فضل ہے کہ یہ مقامی لوگ اکثر ان میں سے ان پڑھ ہیں لیکن الہی نور کی روشنی ان کو پہنچ چکی ہے اس لئے ان کے دل روشن ہو چکے ہیں وہ خود ہی ان کو جواب دیتے ہیں کہ ہمیں تو کلمہ پڑھنا تک نہیں آتا تھا۔اس وقت تو تمہیں ہوش نہیں آئی۔ہمارے بچوں کو کوئی قاعدہ نہیں پڑھاتا تھا، قرآن نہیں پڑھاتا تھا۔اس وقت تو تمہیں ہوش نہیں آئی۔آج جب ہمارے لئے یہ انتظام ہو گیا ہے، ہمارے بچوں کو قرآن کریم پڑھنا سکھایا جا رہا ہے، ہم بڑے جو ہیں ہمیں قرآن کریم پڑھنا سکھایا جا رہا ہے، ہمیں اسلام کی حقیقت بتائی جا رہی ہے اور دین کی محبت ہمارے دلوں میں پیدا کی گئی ہے۔اب تم آ گئے ہو کہ یہ لوگ مسلمان نہیں اور تم مسلمان ہو۔تو بہر حال خود یہ مقامی لوگ ہی اکثر جگہ پر ان کا مقابلہ کرتے ہیں، ان کا منہ بند کر دیتے ہیں۔پس حاسدوں کے حسد کے شر سے بچنے کے لئے اس سورۃ کے پڑھنے کا حکم ہے۔یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تبلیغ دنیا کے کناروں تک پہنچے۔پھر یہ حسد صرف مسلمانوں کی حد تک نہیں ہے۔صرف اتنی نہیں کہ مسلمانوں میں محدود ہو۔1145