نُورِ ہدایت — Page 1109
اور اس میں مضرات سے بچنے کے لئے کامل دعا سکھائی گئی ہے۔اور یہ اس شخص کی ذہنی کیفیت کے مطابق ہے جو سارے قرآن کریم کو پڑھ لیتا ہے۔اور ہر اونچ نیچ کا اسے علم ہو جاتا ہے اور سمجھ لیتا ہے کہ مجھے فلاں فلاں چیز سے بچنا چاہئے اور فلاں فلاں قسم کی چیز کا طالب ہونا چاہئے۔پس ہر دو اعوذ خاص حکمتوں پر مشتمل ہیں۔پھر قرآن مجید کے ابتدا میں آعُوذ پڑھنے کا حکم دینے اور آخر میں آعُوذُ نازل کرنے میں اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ دنیوی امور کا تو کیا ذکر ہے دینی امور کی ابتدا بھی اللہ تعالی کی پناہ سے ہونی چاہئے اور ان امور کی انتہا بھی اللہ تعالیٰ کی پناہ پر ہونی چاہئے۔کیونکہ کوئی شخص کتنا ہی دینی معاملات میں دسترس رکھتا ہو اور کتنا ہی اللہ تعالیٰ کا عرفان اسے حاصل ہو اللہ تعالیٰ کی نصرت اور اس کی حفاظت سے مستغنی نہیں ہو سکتا۔۔۔بگر باوجود اس کے کہ مسلمانوں کو یہ تعلیم دی گئی ہے کہ وہ ہر حالت میں اللہ تعالیٰ کے آستانہ پر جھکے رہیں اور اس سے اس کی اعانت طلب کرتے رہیں۔اگر وہ چند دن بھی نیکی کا کوئی کام کرتے ہیں تو کبر اور خود پسندی میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔تھوڑے دن نمازیں پڑھیں گے تو اللہ تعالیٰ پر احسان جتانے لگ جائیں گے۔چند روزے رکھیں گے تو سمجھ لیں گے کہ اب خدا تعالیٰ پر احسان ہو گیا اور اب اس کا فرض ہو گیا ہے کہ وہ ان کی خواہش پوری کرے۔چندہ دیا تو اس وہم میں مبتلا ہونے لگیں گے کہ اب خدا تعالیٰ پر ان کا حق قائم ہو گیا ہے اور اگر وہ کوئی امتیازی سلوک ان سے نہیں کرتا تو نعوذ باللہ مجرم ہے۔یہی چیزیں ہیں جو انسان کو تباہ کر دیتی ہیں۔اور جب کسی کے اندر یہ روح پیدا ہو جائے تو چاہے وہ ترقی کے تمام مدارج طے کر چکا ہو اس کے اعمال حبط ہو جاتے ہیں اور وہ ادنیٰ سے ادنی مقام پر پہنچ جاتا ہے۔پس انسان کو ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرتے رہنا چاہئے تاوہ کسی موقعہ پر بھی کبر میں مبتلا ہو کر اللہ تعالیٰ کے انعامات سے محروم نہ ہو جائے۔کبر ابتدا میں بھی انسان کو نیکی سے محروم رکھتا ہے یعنی جب اس کے سامنے کوئی بات پیش کی جائے تو وہ اسے سُن نہیں سکتا۔اور کبر انتہا میں بھی انسان کی ہلاکت کا باعث بنتا ہے کیونکہ 1109