نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 1108 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 1108

لفظ الفلق کے مختلف لغوی معانی کو سامنے رکھتے ہوئے قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ کے معنے ہوں گے : 1۔میں اس خدا کی پناہ چاہتا ہوں جو اندھیرے کے بعد روشنی پیدا کرتا ہے۔2۔میں اس خدا کی پناہ چاہتا ہوں جس نے سب کچھ پیدا کیا ہے۔یا جس نے جہنم کو پیدا کیا ہے۔یا جس نے دو گھاٹیوں کے درمیان ایک عمدہ میدان بنایا ہے۔( یعنی اسلام جو افراط و تفریط کے درمیان ہے۔) 3۔یا ئیں اس خدا کی پناہ میں آتا ہوں جس کا اقتدار قید خانوں پر بھی ہے۔4۔اس خدا کی پناہ چاہتا ہوں جو نہروں کا رب ہے۔5۔اس خدا کی پناہ چاہتا ہوں جس کے قبضے میں پیالے کا بچا ہوا دودھ ہے۔سورۃ الفلق اور سورۃ الناس کو معوذتان کہتے ہیں۔یعنی وہ سورتیں جن کو پڑھ کر اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کی جاتی ہے۔اور ان کا یہ نام اس وجہ سے رکھا گیا ہے کہ ان دونوں کے ابتدا میں قُلْ اَعُوذُ کے الفاظ رکھے گئے ہیں۔یعنی ہر پڑھنے والے کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ یہ اعلان کرے کہ میں ہر قسم کے شر سے بچنے کے لئے رب الفلق اور رب الناس کی پناہ میں آتا ہوں۔قومی لحاظ سے اور فردی لحاظ سے بھی۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ فَاسْتَعِذْ بِاللهِ۔یعنی اے قرآن کریم کے ماننے والے جب تو قرآن کو پڑھنے کا ارادہ کرے تو اللہ تعالیٰ سے استعاذہ کرلیا کر۔پس قرآن کریم کے شروع کرتے وقت آغوذ پڑھنے کا حکم تو دیالیکن قرآن کریم کے شروع میں آعُوذُ نازل نہیں کیا۔قرآن کریم کی ابتدا کرتے وقت صرف اتنا ہی حکم دیا کہ آغوذ پڑھ لیا کرو۔اور اس آغوذ کے جو الفاظ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھائے ہیں وہ بہت ہی مختصر ہیں۔گویا قرآن کریم کے پڑھنے والے کی ذہنی کیفیت کے مطابق ہیں۔اور قرآن کریم کے آخر میں جو آغوذ اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ہے وہ بہت زیادہ وسیع مطالب پر حاوی ہے 1108