نُورِ ہدایت — Page 101
سے محفوظ رکھنے اور اس میں بڑھوتی چاہنے کے لئے تیری ذات پاک سے استعانت طلب کرتا ہوں۔گویا ان آیات کی ترتیب ایک طبعی ترتیب ہے جس کے بدلنے سے لازم آتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا موجودہ قانونِ قدرت ایک احسن اور ابلغ نظام پر نہیں ہے۔عبادت کے معنے ہیں عاجزی، انکساری سے فرمانبرداری کرنا۔عبادت کے مفہوم میں اس نکتہ کو ضرور یادرکھنا چاہئے کہ نماز اور روزہ اور دیگر معروفہ عبادات جس ہیئت اور طرز سے ادا کی جاتی ہیں اس کے خلاف ہیئت اختیار کرنے سے ممکن نہیں کہ ان پر ثواب ملے یا رضائے الہی کا موجب ہوں۔مثلاً یہ روزہ جو کہ ہم رکھتے ہیں اگر ایک خاص وقت تک کھانے پینے سے باز رہنے کا نام ہے تو ضرور ہے کہ ہم جمعہ کو یا عید کے دن بھی روزہ رکھ لیا کریں تو ثواب ملے۔لیکن ان ایام میں روزہ رکھنے سے تو ثواب کی بجائے عذاب ہوتا ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے که مطلق روزہ اپنی ذات سے عبادت نہیں ہے۔اسی طرح اگر نماز بہ ایں بیت کہ ہم ادا کرتے ہیں اگر عبادت ہے تو فجر کی دورکعت کی بجائے اگر تین یا چار پڑھ لیں تو بھی ثواب ہونا چاہئے بلکہ زیادہ ہونا چاہئے کیونکہ محنت زیادہ ہوئی۔وہی کلمات ہیں جن کی تکرار کثرت سے کی گئی ہے۔مگر ظاہر ہے کہ دو کے بجائے چار تو در کنار صرف ایک رکن نماز ہی بڑھا دینے سے نماز باطل ہو کر موجب عذاب ہو جاتی ہے۔تو معلوم ہوا کہ نما ز مطلق اپنی ذات سے عبادت نہیں ہے۔پھر ہم معاشرت کو دیکھتے ہیں کہ وہی چہل پہل اور محبت اور پیار اور راز و نیاز کی باتیں اور معاشرت کی حرکات ہیں کہ جب انسان اپنی منکوحہ بیوی سے معاشرہ کرتا ہے تو ثواب پاتا ہے۔لیکن جب ایک نامحرم عورت سے کرتا ہے تو عذاب کا مستحق ہے۔حالانکہ عورت ہونے میں تو بیوی اور نامحرم ایک ہی ہیں اور وہی حرکات ہیں۔تو ان نظائر سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز روزہ معاشرت اور دیگر عبادات شرعیہ مطلق اپنی ذات اور ہیئت کے لحاظ سے ہر گز نہیں ہیں۔بلکہ اس لئے عبادت کا لفظ ان پر آتا ہے کہ یہ خدا تعالیٰ کے حکم سے کی جاتی ہیں۔اور جب ان میں ایک ذراسی بات بھی اپنی طرف سے ملا دی جاوے تو پھر یہ عبادت نہیں رہتیں اور اس 101