نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 1080 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 1080

ہیں۔مَنْ قَرَأَ قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ فَكَانَمَا قَرَأَ ثُلُثَ القُرانِ۔(فتح القدير ) یعنی جس نے سورۃ الاخلاص کو پڑھا گویا اس نے قرآن کریم کے تیسرے حصہ کو پڑھا۔نیز ابوسعید خدری کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهَا لَتَعْدِلُ ثُلتَ الْقُرآنِ۔(فتح القدیر) یعنی وہ ذات جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں اس کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ سورۃ الاخلاص قرآن کریم کے تیسرے حصہ کے برابر ہے۔حمۃ اس سورۃ کے مخلث قرآن ہونے سے یہ مراد نہیں کہ یہ سورۃ قرآن کریم کے حجم کا تیسرا حصہ ہے۔بلکہ صرف یہ مراد ہے کہ اس کا مضمون خاص اہمیت رکھتا ہے۔در حقیقت قرآن کریم کا کام توحید کو ثابت کرنا اور غلط عقائد کو مٹانا ہے۔پس جب اس سورۃ نے نہایت جامع مانع الفاظ کے ساتھ مختصر طور پر وہ مضمون ادا کر دیا جس سے غلط عقائد کا ابطال ہوتا ہے اور توحید کی حقیقت کو بیان کر دیا تو یہ سورہ مثلث قرآن کیا بلکہ سارے قرآن کے برابر ہو گئی۔پس رسول کریم علی ایم کا اس سورۃ کو ملث قرار دینا مبالغہ نہیں بلکہ اس کے مضمون کی اہمیت کے پیش نظر ہے۔چنانچہ اسی اہمیت کے پیش نظر رسول کریم صلی نے اس کو اعظمُ السُّورِ کے نام سے بھی یاد کیا ہے۔(روح المعانی) حمد روایات میں آتا ہے کہ جب یہ سورۃ نازل ہوئی تو اس کے ساتھ ستر ہزار فرشتے نازل ہوئے۔( روح البیان) یہ روایت بھی اس سورۃ کی اہمیت پر دلالت کرتی ہے۔اس قسم کی روایات کے متعلق جن میں سورتوں کے ساتھ فرشتوں کے نزول کا ذکر ہوتا ہے، یاد رکھنا چاہئے کہ اس سے نزول کے وقت حفاظت مراد نہیں ہوتی بلکہ نزول کے بعد کی حفاظت مراد ہوتی ہے۔اور وہ اس طرح کہ ہر سورۃ کسی خاص مضمون کے بارہ میں ہوتی ہے اور بعض دفعہ اس میں پیشگوئیاں ہوتی ہیں جن کے پورا ہونے پر اس سورۃ کی سچائی کا انحصار ہوتا ہے۔یہ پیشگوئیاں بعض دفعہ طبعی تغیرات کے متعلق ہوتی ہیں اور بعض دفعہ انسانی اعمال کے متعلق۔انسانی اعمال کے متعلق جو پیشگوئیاں 1080