نُورِ ہدایت — Page 1076
کہاں سے آ گیا جب کہ اس کی کوئی جوڑو نہیں۔اور اس نے ہر شے پیدا کی ہے اور ہر شے اس کی مخلوق ہے۔نہ کہ اولاد۔یہ سورۃ آخری زمانہ کے عظیم الشان فتنہ عیسائیت سے بچنے کے واسطے ایک بڑا ہتھیار ہے۔اس سورۃ میں اللہ تعالیٰ کی توحید پر بالخصوص زوردیا گیا ہے کہ وہ ایک خدا ہے۔اس کا کوئی بیٹا نہیں۔اور نہ اس کا کنبہ قبیلہ ہے۔اس میں عیسوی مذہب کی تردید کی گئی ہے کیونکہ دین عیسوی کا تمام دارو مدار تثلیث پر ہے کہ ایک خدا باپ ہے اور ایک خدا بیٹا اور ایک خداروح القدس ہے۔عیسائیوں نے ایک کنبہ خدا کا یہاں مقرر کیا ہے۔کوئی باپ ہے۔کوئی بیٹا ہے۔کوئی روح القدس ہے۔مگر اللہ تعالیٰ نے ان سب کی تردید کی ہے کہ خداوہ ہے جو لم یلد ہے۔کسی کا باپ نہیں اور آخر یولد ہے۔کسی کا بیٹا نہیں۔اور لَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ ہے۔نہ اس کے برابر کوئی روح القدس وغیرہ ہے۔ا لَمْ يَلِد وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ - ان ہر سہ کلمات کے ساتھ متثلیث کورڈ کر دیا گیا ہے۔اور اس رڈ کی دلیل الفاظ احد اور حمد میں بیان کی گئی ہے۔کیونکہ جو ایک ہے وہ تین کس طرح ہو سکتا ہے۔اور جو یگانہ ہے اس کے ساتھ دوسرا تیسرا اس کی مانند کیونکر بن سکتا ہے۔اور وہ حمد ہے۔کسی کا محتاج نہیں۔یسوع تو کھانے پینے کا محتاج تھا۔۔۔۔وہ جو محتاج ہے وہ حمد نہیں ہوسکتا۔اور جو صمد نہیں وہ خدا نہیں۔حمہ اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت کا ملہ سے اس سورۃ شریف کو قرآن شریف کے آخر میں رکھ کر اس امر کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ آخری زمانہ کا فتنہ یہ ہوگا کہ تین خدا مانے جاویں گے۔ایک خدا کا باپ بنایا جاوے گا۔ایک خدا کا بیٹا بنایا جاوے گا۔ایک تیسرا بھی ہو گا جو ان کی مانند اور مثل ہوگا۔ایک روایت میں ہے عیسائیوں ہی نے سوال کیا تھا کہ آپ کے خدا کی کیا صفات ہیں؟ اور ان کے سوال کے جواب میں یہ سورۃ نازل ہوئی تھی۔اس فتنہ کو مٹانے والا وہ شخص ہو گا جو خدا کو احد اور حمد مانتا ہوگا۔اور اس امر کو دنیا کے آگے ثابت کر دے گا کہ خدا حمد ہے۔اپنے بندوں کی حاجات کو پوری کرتا ہے۔بندے اپنی ضرورتوں کے وقت اسی کی 1076