نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 1065 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 1065

پس یہ آیت بتاتی ہے کہ ان اقوام کو ایک ہولناک جنگ کا سامنا کرنا پڑے گا۔اور یہ آپس میں لڑ کر تباہ ہو جائیں گی۔عربی زبان میں تش اور سوف جب فعل پر داخل ہوتے ہیں تو زمانہ کی مقدار بتاتے ہیں کہ یہ فعل کب واقع ہو گا۔س زمانہ قریب کے لئے آتا ہے اور سؤف زمانہ بعید کے لئے۔اس آیت میں سیصلی فعل پرس داخل ہوا ہے جو زمانہ قریب پر دلالت کرتا ہے گویا اس میں اشارہ کیا گیا ہے کہ یہ قو میں جو محمد رسول اللہ علیم کے خلاف آگ بھڑ کا ئیں گی اور آپ کے مذہب کو تباہ کرنے کی کوشش کریں گی جس وقت اُن کی کوششیں انتہا کو پہنچ جائیں گی تو اس کے بعد جلد ہی وہ لڑائی کی آگ میں جھونکی جائیں گی۔چنانچہ دیکھ لو کہ مغربی تحریکیں اسلام کے خلاف 1914ء میں کمال کو پہنچیں اور اس کے معاً بعد ان کی آپس میں جنگ ہو گئی جو 1918ء میں ختم ہوئی۔اور پھر دوبارہ 1938ء میں اس کے نتیجہ میں پھر ایک جنگ ہوئی جو 1945ء تک چلی گئی اور 1945ء کے بعد ایٹم بم اور ہائیڈروجن بم کی ایجاد ہوئی جس سے دنیا ایک اور تباہی کے کنارہ پر کھڑی ہے اور یہ زمانہ اس زمانہ کے بالکل قریب ہے جس میں ان مغربی اقوام کی کوششیں اسلام کے خلاف انتہا کو پہنچ گئی تھیں۔وَامْرَآتُه حَمالَةَ الْحَطب حطب۔الْحَطبُ مَا أُعِدَّ مِنَ الشَّجَرِ شَيُوبًا لِلنَّارِ۔درخت کی لکڑیاں جو جلانے کے لئے تیار کی جاتی ہیں اور خشک کی جاتی ہیں ان کو خطب کہتے ہیں۔یعنی ایندھن۔نیز الخطب کے معنے ہیں النَّبِيمَةُ۔چغلخوری۔(اقرب) والی۔پس عمالة الخطب کے معنے ہوں گے (1) ایندھن اُٹھانے والی (2) چغلخوری کرنے امراق کے معنے عورت کے ہیں۔لیکن یہ لفظ ایسے لوگوں کے لئے بھی استعمال ہو جاتا ہے جو کسی کے ماتحت ہوں اور قوت متاثرہ رکھتے ہوں۔۔۔۔پس وَامْرَآتُه حَمَّا لَةَ الحطب سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ابولہب کے نام کی مستحق اقوام کے ساتھ نہ صرف یہ کہ اور لوگ بھی اپنے 1065