نُورِ ہدایت — Page 1063
اللہ تعالیٰ مسیح موعود علیہ السلام کی دعاؤں کو سنے گا اور ایسے سامان پیدا کر دے گا کہ جس طرح نمک پانی میں گھل جاتا ہے اسی طرح یہ اسلام کی مخالف اقوام آپس میں لڑ کر تباہ ہوجائیں گی۔قرآن کریم نے ابولہب کا نام پانے والی اقوام کے مؤیدین کو بھی ہاتھوں سے تعبیر کیا ہے اور فرمایا ہے تبت یدا ابی لَهَبٍ اور حدیث میں بھی جہاں آخری زمانہ میں پیدا ہونے والے فتنوں کا ذکر ہے وہاں یہ ان کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔یہ امر بتا تا ہے کہ رسول کریم عالم کو اللہ تعالیٰ نے امت محمدیہ کے متعلق آخری زمانہ میں آنے والے ابتلاؤں کا علم دے دیا تھا اور بتا دیا تھا کہ سورۃ لہب میں جن اقوام کے خروج کی خبر دی گئی تھی اُن کا مقابلہ ظاہری طاقت سے نہ ہو سکے گا۔تبھی تو آپ نے فرما دیا کہ لا يَدَانِ لِأَحَدٍ لِقِتَالِهِمْ۔الغرض آیت تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وتَب میں یہ پیشگوئی کی گئی ہے کہ اسلام پر حملہ کرنے والی اقوام اور اس کی تائید میں اُٹھنے والے لوگ سب تباہی کا منہ دیکھیں گے اور اسلام کو مٹانہ سکیں گے۔مَا أَغْلَى عَنْهُ مَالُهُ وَمَا كَسَبَ۔پہلی آیت میں اس بات کا ذکر تھا کہ اسلام پر حملہ کرنے والی اقوام تباہ ہوں گی اور نہ صرف خود تباہ ہوں گی بلکہ وہ لوگ جو اُن کے ساتھ اس لئے شامل ہوئے تھے کہ ان کو کچھ نفع ہوگا وہ بھی حسرت کے ساتھ تباہ ہوں گے اور اُن کو اُن کا مقصد حاصل نہ ہوگا۔م اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ اقوام بڑی مالدار ہوں گی اور نہ صرف یہ کہ انہوں نے ایجادوں اور صنعتوں سے بہت مال پیدا کیا ہوگا بلکہ اپنا راس المال دوسرے ملکوں میں لگا کر اور تجارت کے بہانے دوسرے ملکوں پر قبضہ کر کے اُن ملکوں کا مال بھی اپنے قبضہ میں کر لیا ہوگا۔مالہ میں لفظ مال نکرہ رکھا اور نکرہ عظمت شان پر دلالت کرتا ہے۔گویا اس سے یہ اشارہ کیا کہ اس کا عظیم الشان مال بھی اس کو تباہی سے بچا نہ سکے گا۔ماله كے بعد مَا كَسَب کے الفاظ رکھے ہیں اور مَا كَسَبَ کے معنے ہیں۔مَكْسُوبُهُ۔اس کا 1063