نُورِ ہدایت — Page 1052
تبت يدا أبي لهب وتب۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ابولہب کے ہاتھ ہلاک ہو گئے اور وہ بھی بلاک ہوگیا۔۔۔۔ابولہب سے مراد وہ شخص ہے جس نے فتنہ کی آگ کو مسلمانوں میں بھڑ کا یا اور اہلِ اسلام کو کافر قرار دیا اور عیسائیوں کی تائید کی۔پس چونکہ اس کا کام آگ بھڑکانا اور مسلمانوں کو دھوکا میں ڈالنا تھا اسی لئے اس کا نام ابولہب ہوا۔کیونکہ لھب زبانہ آتش کو کہتے ہیں اور لسان عرب میں ایک چیز کے موجد کو اس کا باپ قرار دے دیتے ہیں۔پس چونکہ فتنہ کی آتش کا زبانہ اس شخص سے پیدا ہوا ہے جس کا پیشگوئی میں ذکر ہے اس لئے وہ اس زبانہ آتش کا باپ ہوا اور ابولہب کہلایا اور جہاں تک میں سمجھتا ہوں اس جگہ ابو لہب سے مراد شیخ محمد حسین بٹالوی ہے واللہ اعلم۔کیونکہ اس نے کوشش کی کہ فتنہ کو بھڑ کاوے۔( ضیاء الحق ، روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 293 294) تبتُ يَدَا أَبِي لَهَبٍ و تب کے الفاظ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو الہام بھی ہوئے۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں: بلاک ہو گئے دونوں ہاتھ ابی لہب کے (جبکہ اس نے یہ فتویٰ لکھا ) اور وہ آپ بھی بلاک ہوگیا۔۔۔۔اس الہام میں سورۃ مثبت کی پہلی آیت کا مصداق اس شخص کو ٹھہرایا ہے جس نے سب سے پہلے خدا کے مسیح موعود پر تکفیر اور تو بین کے ساتھ حملہ کیا۔اور یہ دلیل اس بات پر ہے کہ قرآن شریف نے بھی اسی سورت میں ابولہب کے ذکر میں علاوہ دشمن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مسیح موعود کے دشمن کو بھی مرادلیا ہے اور یہ تفسیر اس الہام کے ذریعہ سے کھلی ہے۔اس لئے یہ تفسیر سراسر حقانی ہے اور تکلف اور تصنع سے پاک ہے۔۔۔۔۔غرض آیت تبت يدا أبي لهب و تب جو قرآن شریف کے آخر سپارہ میں چار آخری سورتوں میں سے پہلی۔۔۔۔۔۔1052