نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 1043 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 1043

اللہ تعالی ہی دے سکتا ہے۔صرف آپ کا ایک ارادہ ہے، نیک تمنا ہے کہ ہم ایسا بننے کی کوشش کریں۔جب آپ پوری نیت کے ساتھ ، پوری وفا کے ساتھ ، پورے عجز کے ساتھ، پورے پیار اور محبت کے ساتھ اپنے رب کے رنگ میں رنگین ہونے کی کوشش کرتے ہیں تو پھر اس کی صفت مالکیت جلوہ دکھاتی ہے اور وہ انسان کو مالک بنا دیتی ہے۔پس اگر احمدی نے اس سارے زمانہ کی تقدیر بدلنی ہے تو اس کا یہی ایک طریق ہے جو مجھے معلوم ہے اس کے سوا اور کوئی طریق نہیں ہے۔یہی قرآن کریم کی تعلیم ہے، یہی حضرت محمد مصطفی صلی کی سنت ہے اور یہی اس کی تفسیر ہے جو آپ نے مختلف وقتوں میں بیان فرمائی۔پس مجھے نظر آ رہا ہے کہ خدا کی قدرت مالکیت کے جلوے دکھانے کے لئے تیار ہے۔آپ کو مبارک ہو کہ خدا تعالیٰ بنی نوع انسان پر اور احمدیت کی قربانیوں پر رحم فرما رہا ہے۔وہ جان چکا ہے کہ احمدی پورے خلوص اور محبت اور وفا کے ساتھ اپنا سب کچھ اس کی راہ میں فنا کرنے کے لئے تیار ہو رہے ہیں۔چنانچہ ہم پر اس کے پیار کی نظر میں پڑ رہی ہیں اللہ تعالی مالک ہے وہ لوگوں کے دلوں میں تبدیلیاں فرما رہا ہے۔خطبہ جمعہ حضرت خلیفتہ اریح الرابع رحمہ اللہ، فرمودہ 14 اکتوبر 1983ء۔خطبات طاہر جلد دوم صفحہ 513 تا524) اسی طرح حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ نے خطبہ جمعہ فرمودہ 11 اپریل 1986 ء میں سورۃ النصر کی تلاوت کے بعد فرمایا: دین کی اصطلاح میں جس چیز کا نام فتح ہے اور جس چیز کو نصرت قرار دیا جاتا ہے وہ دنیا کی اصطلاح میں فتح اور نصرت کہلانے والی چیز سے بالکل مختلف چیز ہے۔ان دونوں کے مزاج مختلف ہیں ، ان کی نوعیت مختلف ہے، ان کے رخ بالکل مختلف ہیں اور ایک کا کردار دوسرے کے کردار سے اتنا بعید ہے، اتنا فاصلہ رکھتا ہے جیسے بُعْدَ الْمَشْرِ قَيْنِ ہو۔چنانچہ قرآن کریم نے اس سورۃ میں جو فتح و نصر کا نقشہ کھینچا ہے اس کی ظاہری الفاظ میں جو شکل ظاہر ہو رہی ہے اگر اس کی باطنی حقیقتوں میں ڈوب کر غور نہ بھی کریں تو ظاہری شکل و صورت ہی دنیا کی فتح ونصر کی ظاہری شکل وصورت سے بالکل مختلف دکھائی دیتی ہے۔دنیا میں 1043