نُورِ ہدایت — Page 1037
اسلام کی فتح ہی کی جنت ہے مگر اس کے لئے ہر احمدی کوزبردست تیاری کرنی پڑے گی۔اسی طرح ہر احمدی کو پھر حمد کے مضمون میں بھی داخل ہونا پڑے گا اس ارادے کے ساتھ کہ خدا کی خاطر مجھ پر جو ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں ان کو ادا کرنے کے لئے مجھے اپنے خیالات کو درست کرنا ہے، اپنے اخلاق کو سنوارنا ہے، اپنی عادات کو سنوارنا ہے، اپنے مزاج کوسنوارنا ہے اور یہ سب روزمرہ کی زندگی کے ساتھ تعلق رکھنے والے واقعات ہیں۔یہ کوئی فرضی حمد نہیں ہے کہ آپ نما ز میں چند منٹ کے لئے تصوراتی حمد کرلیں اور پھر باہر آ کر بھول جائیں کہ آپ نے کیا کہا تھا۔حالانکہ تسبیح و تحمید کا مضمون اور برائیوں کو دور کرنے کا مضمون تو روز مرہ کی زندگی میں داخل ہو جاتا ہے، وہ خوابوں میں بھی ساتھ رہتا ہے۔اٹھنے کے وقت بھی ساتھ رہتا ہے۔جس وقت آپ کھانا کھا رہے ہوتے ہیں اس وقت بھی ساتھ ہوتا ہے۔جس وقت آپ وضو کر رہے ہوتے ہیں اس وقت بھی ساتھ ہوتا ہے، جس وقت آپ معاملات کر رہے ہوتے ہیں اس وقت بھی ساتھ ہوتا ہے۔بیوی بچوں کے تعلقات میں بھی اور غیروں کے تعلقات میں بھی ساتھ ہوتا ہے۔غرضیکہ ہر روز انسان کی زندگی میں ایسے بے حد اور بے انتہا مواقع نظر آتے ہیں جہاں وہ اپنی بعض برائیاں دور بھی کر سکتا ہے، اگر وہ بیدار مغزی کے ساتھ اپنا مطالعہ کرے اور بعض وہ خوبیاں اپنے اندر پیدا کر رہا ہوتا ہے مثلاً بول چال میں بداخلاقی کو چھوڑ دیتا ہے، کلام میں تیزی اور مزاج میں درشتی کو نرمی میں بدل دیتا ہے اور سمجھتا ہے کہ آج میں نے یہ برائی چھوڑ دی ہے، اب میں نے وہ برائی چھوڑ دی ہے۔اس طرح جب وہ خدا کی حمد کے گیت گائے گا اور اس کی صفات کے مضمون میں ڈوبے گا تو الہی صفات کے رنگ پکڑنا شروع کر دے گا اور اس طرح اخلاق کو درست کرنے کا اس سے بہتر طریق اور کوئی نہیں۔جب آپ کہتے ہیں الْحَمدُ لله رب العالمین تو یہ حد ہی کا مضمون ہے۔اللہ رب العالمین ہے۔تمام جہانوں کی پرورش کرنے والا ہے۔رب کا مطلب ہوتا ہے کہ جو بھی خدا کا فیض پائے اور جو اس سے تعلق جوڑے وہ پہلے سے بہتر ہونا شروع ہو جائے۔اگر کسی انسان میں یہ 1037