نُورِ ہدایت — Page 96
مَغْضُوبِ عَلَيْهِم بنایا جاتا ہے جب اس امت کے لئے خاتمہ ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جانتا تھا کہ اس قوم میں بھی کئی یہودیوں کا رنگ دکھلائیں گے۔وہ یہودی عیسی کو شولی دینا چاہتے تھے اسی طرح حدیث صحیح میں ہے کہ آخر یہ بھی یہودی ہوں گے اور خدا کی طرف سے جو آئے گا اس کی تکذیب کریں گے اور اس کے قتل کے منصوبے کرنا داخل ثواب سمجھیں گے۔خدا کی باتیں بے معنی نہیں۔یہ عذاب کے دن ہیں یا نہیں ؟ پچیس برس سے صبر کیا ان لوگوں نے تو اپنی طرف سے کوئی دقیقہ نہیں چھوڑا۔میں نے ان کے کفر ناموں میں دیکھا کہ لکھتے ہیں اس کا کفر یہود ونصاریٰ کے کفر سے بڑھ کر ہے۔تعجب کی بات ہے کہ جو لوگ کلمہ پڑھتے ہیں۔قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام تعظیم سے لیتے ہیں۔جان تک فدا کرنے کو حاضر ہیں۔کیا وہ ان سے بدتر ہیں جو ہر وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتے رہتے ہیں۔بجز اس کے جو مسلوب الایمان ہو جائے ایسا الزام نہیں دے سکتا۔اگر ان میں ایمان نہیں تو کیا شرافت بھی جاتی رہی۔اللہ تعالیٰ تو خوب جانتا تھا کہ ایسا فرقہ ہونے والا ہے جو مسیح کی تکفیر اپنا ایمان سمجھے گا۔اسی لئے اس دعا میں اس راہ سے بچنے کے لئے دعا سکھلائی۔(ماخوذ از تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ) حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ( بدر 9 جنوری 1908 ، صفحہ 7) شیخ محی الدین ابن عربی لکھتے ہیں کہ میں نے جتنی دفعہ الحمد شریف پڑھا ہے ہر دفعہ اس کے نئے معنے میری سمجھ میں آئے ہیں۔میں اگر چہ ایسا دعویٰ تو نہیں کر سکتا مگر میں نے بغور دیکھا ہے اور میرا اعتقاد ہے کہ سارا قرآن مجید الحمد شریف کے اندر ہے۔الحمد متن ہے اور قرآن شریف اس کی شرح ہے۔96