نُورِ ہدایت — Page 1024
تمہارے نزدیک غلبہ کا مفہوم یہ ہے کہ جب کوئی تمہارے مذہب سے ذرا ادھر اُدھر ہوا۔تم لٹھ لے کر کھڑے ہو گئے۔اس کو مارا پیٹا اور اس کی جان لینے کے درپے ہو گئے۔اور اس کو جبر و اکراہ سے اپنے بتوں اور معبودوں کی طرف لانے کی کوشش کی اور ہر طرح کا ظلم روا سمجھا۔لیکن اسلام ایسے غلبہ کو غلبہ نہیں بلکہ شکست سمجھتا ہے۔اور اسلام کے نزدیک غلبہ کا مفہوم یہ ہے کہ ایسے دلائل پیش کئے جائیں جو دل اور دماغ پر قابو پالیں اور ایک ہوشمند انسان ان دلائل کے سامنے ہتھیار ڈال دے اور ہمیشہ کے لئے غلام ہو جائے۔اور یہ کہ مذہب کے بارہ میں جبر سے کام لینے کی بجائے دلائل و براہین سے کام لینا چاہئے۔اور مذہب کے اختیار کرنے میں پوری آزادی ہونی چاہئے۔اے کا فرو! تم نے اپنے ہتھیار کو استعمال کیا اور مسلمانوں نے اپنے ہتھیار کو استعمال کیا۔اب تھوڑے دنوں میں نتیجہ نکل آئے گا کہ باوجود تمہارے پورے جبر کے تمہاری ساری قوم ٹوٹ کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں آ گرے گی۔اور یہ ظاہر ہے کہ جب تمہاری قوم مسلمان ہو جائے گی تو مسلمانوں کو تمہارے ساتھ شامل ہونے کی ضرورت نہیں رہے گی۔پس جو دعویٰ سورۃ کافرون کی آخری آیت میں کیا گیا تھا وہ ثابت ہو جائے گا کہ غلبہ کے متعلق کفار کا نظریہ اور ہے اور مسلمانوں کا اور ہے۔لیکن سچا نظریہ یہی ہے جو مسلمانوں کا ہے کہ وہی جیتے گا جو دلیل سے کام لے گا اور تلوار اور سونٹا ناکام رہیں گے۔یہ سورۃ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے صرف سٹر دن پہلے نازل ہوئی تھی اور یہ کہ اس سورۃ کے نازل ہونے کے ساتھ ہی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ علم بھی دے دیا گیا تھا کہ اب آپ کی وفات کا وقت قریب ہے۔إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ اس آیت کے متعلق یہ امر بھی ذکر کے قابل ہے کہ اس میں الفتحُ پر ال داخل کیا گیا ہے۔اور عربی زبان میں جب کبھی لفظ پر ال داخل کیا جائے تو اس کے معنے ہوتے ہیں کہ 1024