نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 997 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 997

کافر کا لفظ عرب کے محاورے میں ایسا نہیں تھا جیسا کہ ہمارے ملک میں کسی کو کافر کہنا گویا آگ لگا دینا ہے۔وہ لوگ چونکہ اہلِ زبان تھے۔خوب جانتے تھے کہ کسی کی بات کو نہ ماننے والا اس کا کا فر ہوتا ہے۔اور ہم چونکہ آپ کی بات نہیں مانتے اس واسطے آپ ہمیں اس رنگ میں خطاب کرتے ہیں۔قرآن شریف میں خود مسلمانوں کی صفت بھی کفر بیان ہوئی ہے جہاں فرمایا ہے۔يَكْفُرُ بِالطَّاغُوتِ (البقرة 247) معلوم ہوا کہ کفر مسلمان کی بھی ایک صفت ہے۔مگر آجکل ہمارے ملک میں غلط سے غلط بلکہ خطر ناک سے خطرناک استعمال میں آیا ہے۔کسی نے کسی کو کافر کہا اور وہ دست و گریبان ہوا۔اصل میں کافر کا لفظ دل دکھانے کے واسطے نہیں تھا۔بلکہ یہ تو ایک واقعہ کا اظہار و بیان تھا۔وہ لوگ تو اس لفظ اور خطاب کو خوشی سے قبول کرتے تھے۔ا قُل يَأَيُّهَا الكَفِرُونَ۔کے معنے ہوئے کہ وے اے کا فرو ہوشیار ہو کر اور توجہ سے میری بات کوٹن لو۔اعْبُدُ مَا تَعْبُدُونَ۔میں اُن بتوں کی ، ان خیالات کی ، ان رسوم و رواج کی اور اُن ظنوں کی فرماں برداری نہیں کرتا جن کی تم کرتے ہو۔ان لوگوں میں اکثر لوگ تو ایسے ہی تھے جو رسم و رواج، عادات اور بتوں کی اور ظنوں اور وہموں کی پوجا میں غرق تھے۔ہاں بعض ایسے بھی تھے جو دہر یہ تھے۔مگر زیادہ حصہ ان میں سے اوّل الذکر لوگوں میں سے تھا۔خدا کو بڑا خدا جانتے تھے اور خدا سے انکار نہ کرتے تھے۔پس ایسے بھی کافر تھے جو خدا کو بھی مانتے تھے اور بتوں سے بھی الگ تھے۔رسم و رواج میں بھی نہ پڑے تھے۔آنحضرت کے پاس آنے کو اور آپ کی فرماں برداری کرنے میں اپنی سرداری کی ہتک جانتے تھے اور ان کے واسطے ان کا کبر اور بڑائی ہی حجاب اور باعث کفر ہورہی تھی۔وَلَا انْتُمْ عَبدُونَ مَا أَعْبُدُ۔اور نہ ہی تم میرے معبود کی عبادت کرتے نظر آتے ہو۔وَلَا أَنَا عَابِدُ ما عَبدُتُم۔اور نہ ہی میں کبھی تمہاری طرز عبادت میں آؤں گا۔997