نُورِ ہدایت — Page 996
جہاد کے واسطے جو کچھ حکم تھا یہی تھا۔اور اس زمانہ میں بہ سبب اس کے کہ مذہب کی خاطر مسلمان کسی ملک میں دُکھ نہیں دیئے جاتے۔خود ان کی بھی ضرورت نہیں رہی۔سورۃ کافرون میں تو خود جہاد کے کرنے یا نہ کرنے کا کوئی تذکرہ بھی نہیں۔لیکن اگر بہر حال یہ سمجھا ہی جاوے کہ اس سورۃ شریف میں جہاد کے متعلق کوئی حکم ہے تو وہ جہاد کے جواز کا ہوسکتا ہے۔نہ کہ اس کے نسخ کا۔کیونکہ اس سورۃ میں مخالفوں کو ایک چیلنج دیا گیا ہے کہ تم اپنے دین کے ساتھ زور آزمائی کرو۔اور ہم اپنے دین کی قوت کے ساتھ تمہارا مقابلہ کرتے ہیں۔پھر دیکھو کہ خدا کس کو کامیاب کرتا ہے۔اور یاد رکھو کہ یہ کامیابی بہر حال اسلام کے واسطے ہے۔پس یہ سورت کسی حالت میں منسوخ نہیں اور نہ کوئی اور حصہ قرآن شریف کا منسوخ ہوا یا ہوسکتا ہے۔دين : جزا و سزا کے معنے میں بھی آتا ہے۔اور اس کا یہ مطلب ہے کہ تم لوگوں نے جس طریقہ کو اختیار کیا ہے اس کا بدلہ تم کو بہر حال مل کر رہے گا۔جو طریقہ ہم نے اختیار کر لیا ہے اس کا بدلہ خدا ہم کو ضرور دے گا۔حضرت نبی کریم کی ابتدائی تیرہ سالہ مکہ کی زندگی کیسی مشکلات اور مصائب کی زندگی ہے مگر با ایں کہ آپ بالکل تنہا اور کمزور ہیں۔خدا تعالیٰ آپ کی زبان سے اہل مکہ کے بڑے بڑے اکابر قریش اور سردارانِ قوم کو جو اپنے برابر کسی کو دنیا میں سمجھتے ہی نہ تھے۔یوں خطاب کراتا ہے۔قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کمزوری کی حالت میں بھی خدائی تائید اور نصرت کی وجہ سے جو آپ کے شامل حال تھی اور اس کامل اور سچے علم کی وجہ سے جو آپ کو خدا کے وعدوں پر تھا۔آپ میں ایسی قوت اور غیرت و حمیت موجود تھی کہ آپ تبلیغ احکام الہی میں ان کے سامنے ہرگز ہرگز ذلیل نہ تھے۔بلکہ آپ کے ساتھ خدا کی خاص نصرت اور حق کا رُعب اور جلال ہوا کرتا تھا۔پس اس سے مسلمانوں کو یہ سبق لینا چاہئے کہ حق کے پہنچانے میں ہرگز ہر گز کمزوری نہ دکھائیں اور دینی معاملات میں ایک خاص غیرت اور جوش اور صداقت کے پہنچانے میں سچی حمیت رکھیں۔996