نُورِ ہدایت — Page 995
کریں اور ایسا ہی مسلمان اس عرصہ میں کوئی کتاب ان مذاہب کی تردید میں نہ لکھیں گے۔ہاں ہر ایک مذہب کے عالم کو یہ اختیار ہوگا کہ صرف اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کرتے رہیں۔کوئی کتاب لکھے جس میں یہ دکھائے کہ اس مذہب پر چلنے سے کیا کیا فوائد حاصل ہو سکتے ہیں لیکن کسی دوسرے مذہب کا کچھ ذکر نہ کریں۔مذہبی جنگوں کے خاتمہ کے واسطے اور آئے دن کے جھگڑوں اور تنا زعوں کے مٹانے کے لئے یہ نہایت ہی احسن طریقہ تھا مگر افسوس ہے کہ لوگوں نے اس طرف توجہ نہ کی۔غرض اس قسم کی صلح تو انبیاء کی سنت کے مطابق ہے۔لیکن یہ بات کہ مداہنہ کے طور پر اور منافقت سے کچھ تم ہمارے عقائد کو مان لو اور کچھ ہم تمہارے عقائد کو مان لیں۔ایسا طریقہ خدا کے سچے رسول کبھی اختیار نہیں کر سکتے۔بعض لوگ اس سورۃ شریف کے یہ معنے سمجھ کر اس کو منسوخ سمجھتے ہیں کہ کفار کو ان کے دین پر رہنے کی اس میں اجازت دی گئی ہے کہ وہ بیشک اپنے دین پر رہیں اور مسلمان ان کے ساتھ کوئی تعریض نہیں رکھیں گے۔لیکن جب جہاد کے متعلق آیات نازل ہوئیں تو پھر یہ سورۃ منسوخ ہو گئی۔یہ بات بالکل غلط ہے۔قرآن شریف کی کوئی سورت اور سورت کا کوئی حصہ منسوخ نہیں ہے۔سب کا سب ہمیشہ کے واسطے بنی نوع کے عمل کے لئے عمل کرنے اور فائدہ اٹھانے کے واسطے ہے۔قیامت تک قرآن شریف کا ایک نقطہ بھی منسوخ نہیں ہو سکتا۔اصل بات یہ ہے کہ مذہب اسلام میں دینی اختلاف کی وجہ سے نہ کوئی لڑائی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کی اور نہ آپ کے بعد کبھی کسی کو اجازت ہے کہ دینی اختلاف کی وجہ سے کسی کو قتل کرے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں کفار نے جب مسلمانوں کو سخت دُکھ دیا اور طرح طرح کے ایڈا کے ساتھ پہلے مسلمانوں کو تہ تیغ کرنا شروع کیا اور بڑی بڑی فوجیں لے کر ان پر چڑھائیاں کیں تو بہت سے صبر اور تحمل کے بعد جب وہ کسی طرح بھی باز نہ آئے تو خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کو اجازت دی کہ ایسے شریروں سے اپنا بچاؤ کریں اور ان کو شرارت کی سزا دیں۔995