نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 994 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 994

گھڑے اور بنائے ہیں۔چونکہ آپ کو ان لوگوں کی خیر خواہی کے واسطے بڑا درد تھا۔جس کو خدائے علیم نے ان الفاظ میں ظاہر کیا ہے کہ فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ (الشعراء 4) کیا تو اس غم میں کہ یہ ایمان نہیں لاتے اپنی جان کو ہلاک کر دے گا۔آپ نے کفار کے ایسے جاہلانہ سوال پر دردمند ہو کر یہی بہترسمجھا کہ اس کے جواب کے واسطے اپنے معبود حقیقی کی طرف توجہ کریں اور یہی طریقہ ہمیشہ سے انبیاء کے حصہ میں آیا ہے۔چنانچہ آپ کی توجہ کے بعد خدا تعالیٰ سے کفار کے جواب میں یہ سورۃ شریف نازل ہوئی جس سے کفار کی تمام امید میں ٹوٹ گئیں۔اس قسم کے صلح کے شرائط عموما کفار انبیاء کے سامنے بہ سبب اپنی جہالت کے پیش کیا کرتے ہیں۔چنانچہ اس زمانہ میں بھی خدا کے مُرسل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مخالفوں نے یہ بات کہی کہ ان کے اتقاء اور علم اور عمل میں ہم کو کوئی شک نہیں۔بے شک یہ ولی اللہ ہیں اور ہم ان کو ماننے کے واسطے تیار ہیں۔صرف مسیح ہونے کا دعوی نہ کریں اور بس۔تعجب ہے کہ ان لوگوں کی عقل پر کیسے پتھر پڑ گئے۔کیا وہ شخص جو متقی اور عالم اور ولی اللہ مانا جا سکتا ہے اس کی نسبت یہ کلمہ بھی کسی عقل کی رُو سے کہنا جائز ہوسکتا ہے کہ اس نے دعویٰ نبوت اور مسیحیت کا از خود کر دیا ہے۔اور خدا پر افتراء باندھا ہے؟ کیا مفتری علی اللہ متقی اور ولی اللہ ہو سکتا ہے؟ ہاں کفار کے ساتھ ایک اور صورت صلح کی ہو سکتی ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کفار کے ساتھ کی تھی۔جس کی شرط یہ تھی کہ کفار مسلمانوں پر حملہ نہ کریں اور نہ اُن لوگوں کی امداد کریں جو مسلمانوں پر نا جائز حملہ کرتے رہتے ہیں۔اور ایسے ہی مسلمان نہ ان کو کسی قسم کی تکلیف دیں گے اور نہ ان کے تکلیف دہندوں کی کوئی حمایت کرے گا بلکہ ہر طرح سے ان کے بچاؤ کی کوشش کریں گے۔اسی رنگ میں صلح حضرت مسیح موعود نے بھی مخالف عیسائیوں، آریوں ، ہندؤوں اور دیگر اقوام کے سامنے پیش کی تھی کہ چند سالوں تک جو معین کئے جاویں یہ قومیں مسلمانوں کے خلاف کوئی کتاب نئی یا پرانی شائع نہ 994