نُورِ ہدایت — Page 993
مرجاتے ہیں۔پر وہ خدا کے بندے ہر روز اپنا قدم آگے بڑھاتے ہیں اور خدا کی تائید سے کامیاب ہو کر رہتے ہیں۔یه سوره شریف بقول ابن مسعود و حسن و عکرمہ مگی ہے۔اس زمانہ میں نازل ہوئی تھی جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہنوز مکہ معظمہ میں قیام رکھتے تھے۔اس سورہ کی پیشین گوئی سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے کہ یہ سورۃ ایسے وقت میں نازل ہوئی تھی جب کہ کفار اپنے زور پر تھے۔اور اپنے بتوں کی حمایت اور ان کی پرستش میں بڑے یقین کے ساتھ مصروف تھے اور گمان کرتے تھے کہ اسلامی سلسلہ ایک چند روزہ بات ہے جو جلدی ہم لوگ اپنی قوت و زور کے ساتھ نیست و نابود کر دیں گے۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دعوی نبوت کی اصل کیفیت نہ سمجھ کر ان میں سے چند آدمی جیسا کہ ابو جہل۔عاص بن وائل اور ولید بن مغیرہ۔آسو د بن عبد يغوث وغیرہ نے آپ کے پاس پیغام بھیجا کہ ہمارے بتوں کی مذمت کرنا اور ان کو بُرائی سے یاد کرنا چھوڑ دو۔اور اس کے عوض میں ہم آپ کو اس قدر مال دیں گے کہ مکہ میں آپ سے زیادہ بڑا کوئی مالدار نہ ہو وے۔یا اگر آپ چاہیں تو ہمارے قبائل میں سے سب سے زیادہ خوبصورت عورت جو آپ کو پسند ہو آپ لے لیں اور اگر آپ کو ان دونوں باتوں میں سے کوئی بات پسند نہ ہو تو پھر تیسری بات یہ ہے کہ آپ ہمارے ساتھ اس طرح سے صلح کرلیں کہ ایک سال ہمارے بتوں کی پرستش کریں تو پھر دوسرے سال ہم آپ کے اللہ کی عبادت کریں گے۔اس طرح برابر تقسیم ہوتی رہے گی اور کسی کو شکایت کا موقعہ نہ رہے گا۔معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ یہ لوگ کیسے جاہل ہیں کہ نہیں سمجھتے کہ میں کس خوبیوں سے بھرے ہوئے اسلام کی طرف ان کو بلاتا ہوں اور کس قادر وتوا ناحی و قیوم معبود حقیقی کے قرب کے حصول کا ذریعہ ان کے آگے پیش کرتا ہوں اور کیسی دائمی خوشی اور ابدی راحت کا تحفہ ان کے واسطے تیار کرتا ہوں جس کے عوض یہ مجھے نا پائیدار مال اور عورت کے چند روزہ محسن کا لالچ دیتے ہیں۔اور پتھر کے آگے سرجھکانے کو کہتے ہیں جو انہوں نے خود اپنے ہاتھوں سے 993