نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 992 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 992

تیا ( حرف ندا ) آئی ( تخصیص کے لئے ہے ) اور ھا ( تنبیہ کا حرف ہے خبردار کرنے کے لئے ) جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نہایت تاکید کے ساتھ اچھی طرح منکروں کے کان کھول کھول کران کو یہ پیشگوئی سنائی گئی تھی کہ تم کو تمہارے اس طریقہ کا بدلہ ملنے والا ہے۔اور تم دیکھ لو گے که خداوند تعالیٰ توحید کے پرستاروں کو تمہارے مقابلہ میں کس طرح کامیابی عطا کرے گا۔حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یا نداءُ النَّفْس ہے اور آئی نِدَاءُ الْقَلْبِ ہے اور هَانِدَاءُ الرُّوح ہے۔گویا نفس ، رُوح اور قلب ہر سہ کو مخاطب کیا گیا ہے۔بعض نے لکھا ہے کہ یا حرف نداء غائب کے واسطے ہے۔اور آئی حرف نداء حاضر کے واسطے اور ھا تنبیہ کے واسطے۔کیا حاضر، کیا غائب، سب کو نہایت تاکید کے ساتھ مخاطب کیا گیا ہے۔انبیاء کی دعوت ہمیشہ اسی طرح نہایت تاکید کے ساتھ بار بارلوگوں کو بلا کر اور مخاطب کر کے پہنچائی جاتی ہے۔چنانچہ اس کی نظیر خود اس زمانہ میں خدا تعالیٰ نے ہمارے واسطے پیدا کر دی ہے۔خدا کا مسیح کس قوت اور زور کے ساتھ دنیا کی تمام قوموں کے درمیان توحید کا وعظ کر رہا ہے۔نہ ایک دفعہ کہہ کر وہ خاموش ہو جاتا ہے۔بلکہ بار بار ہر ایک ذریعہ سے خدا کا پیغام دنیا کو پہنچاتا ہے۔نہ صرف ایک زبان میں بلکہ اردو، عربی، فارسی اور انگریزی، پشتو وغیرہ زبانوں میں اس کی تبلیغ کا آوازہ دنیا کے چار کونوں تک پہنچ رہا ہے۔رسالوں میں۔اخباروں میں۔اشتہاروں میں۔زبانی تقریروں قلمی تحریروں میں۔غرض کوئی ذریعہ تبلیغ کا اٹھا نہیں رکھا گیا۔اور آج دنیا میں کوئی ایسا ملک نہیں جہاں کے لوگ اس مسیح کے نام سے اور اس کے دعوے سے ناواقف ہوں۔خدا کے برگزیدوں کی ہمیشہ سے یہ ہی سنت ہے کہ وہ کھول کھول کر اور پھاڑ پھاڑ کر خدا کا حکم دنیا جہان کو پہنچادیتے ہیں اور اس کے حکم کے پہنچانے میں نہ وہ کسی دشمن کی دشمنی کی پرواہ کرتے اور نہ کسی مخالف کی مخالفت سے کبھی ڈرتے ہیں۔نادان ان کے مقابلہ میں اُٹھتے اور جوش دکھاتے ہیں۔پھر تھک کر بیٹھ جاتے ہیں اور پھر ناامید ہو کرنا کام 992