نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 985 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 985

مِنَ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُونَ (ابراهيم (38) حضرت ابراہیم علیہ السلام دعا کرتے ہیں کہ اے خدا تو اس گھر کو امن والا بنا ئیو اور مجھے اور میری اولاد کو شرک سے بچائیو۔پھر کہتے ہیں اے خدا میں نے اپنی اولاد کو تیرے مکرم و محترم گھر کے پاس ایک ایسی جگہ لا کر بسا دیا ہے جہاں کوئی کھیتی باڑی نہیں ہوتی محض اس لئے کہ وہ نمازوں کو قائم کریں اور تیرے ذکر میں مشغول رہیں فَاجْعَلْ أَفْئِدَةً مِنَ النَّاسِ تَهْوِی إِلَيْهِمُ پس اے خدا تو خود لوگوں کے دلوں میں تحریک کر کہ وہ ان کی طرف جھکیں وَارزُقُهُم مِّنَ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُونَ اور انہیں کھانے کے لئے ہر قسم کے پھل عنایت فرما تا کہ یہ تیرا شکر ادا کرتے رہیں۔اس دعا میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے اپنی اولاد کے لئے دو باتیں مانگی ہیں۔امن اور رزق۔اور پھر ذریعہ بھی بتاتے ہیں کہ یہ امن اور رزق انہیں کس طرح ملے؟ آپ فرماتے ہیں یہ دونوں چیزیں انہیں حکومت اور تلوار کے زور سے نہ ملیں۔بیشک دنیا میں حکومت کے زور سے امن بھی قائم ہو جاتا ہے اور حکومت لوگوں کا روپیہ بھی کھینچ کھینچ کر لے آتی ہے۔مگر آپ فرماتے ہیں میں یہ پسند نہیں کرتا کہ انہیں اس رنگ میں یہ چیزیں ملیں۔میری دعا اور التجا یہ ہے کہ فَاجْعَلْ أَفْئِدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِى إِلیہم لوگوں کے دلوں میں ان کی محبت پیدا ہوا اور وہ عقیدت کے ساتھ ان کی طرف جھکیں۔گویا جو کچھ ملے زور اور طاقت سے نہ ملے بلکہ عقیدت اور محبت کی وجہ سے ملے۔یہ کتنی کڑی شرطیں ہیں جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی دعا میں لگادی ہیں۔یہ ایسی ہی بات ہے جیسے کوئی شخص جنگل میں جا کر یہ دعا کرے کہ خدایا مجھے پر بارش برسا۔وہ میرے ارد گرد نہ برسے۔وہ صرف آدھ گھنٹہ بر سے اور جب برس چکے تو فوراً اسی جگہ سے ایک درخت نکل آئے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی اپنی اولاد کو ایک جنگل میں لا کر بٹھا دیتے ہیں اور پھر دعا یہ کرتے ہیں کہ انہیں امن حاصل ہو۔بھلا جنگل میں امن کہاں! جنگل میں تو یہی ہو سکتا ہے کہ کوئی بھیڑیا آئے اور چیر پھاڑ جائے یا کوئی ڈاکو آئے اور وہ لوٹ لے۔پھر وادی غیر ذی زرع کہاں اور رزق کہاں ! مگر وہ ایک جنگل میں اپنی اولاد کو بٹھا 985