نُورِ ہدایت — Page 967
قرار دیا گیا ہے اور جب ان کے اس فعل کو اچھا قرار دیا گیا ہے تو اس آیت کے یہ معنے نہیں ہو سکتے کہ وہ سفر کیوں کرتے ہیں۔انہیں چاہئے کہ وہ سفر چھوڑ دیں اور بیٹھ کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں۔پس یہ معنے لفظا اور نحواً تو درست ہیں مگر یہاں چسپاں نہیں ہوتے۔دوسرے وہ یہ سفر اس لئے کرتے تھے کہ روٹی کما کر لائیں اور پھر مکہ والوں میں بانٹیں تا کہ وہ مکہ میں ہی رہیں، تلاش معاش میں مکہ چھوڑ کر ادھر اُدھر نہ چلے جائیں۔اب ان معنوں کو درست تسلیم کرنے کا تو یہ مطلب ہوگا کہ اللہ تعالیٰ ان سے فرماتا ہے کہ تمہیں ایسا نہیں کرنا چاہئے کہ تم باہر جاؤ اور مکہ والوں کو کھلاؤ۔مگر ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ یہ معنے عقل کے خلاف ہیں۔اس لئے اس آیت کا ہر گز یہ مفہوم نہیں۔ان سفروں کی ضرورت تو انہیں موت اور ہلاکت کی وجہ سے پیش آئی تھی۔اگر بلا ضرورت مکہ والے سفر کرتے تو اعتراض کی بات تھی مگر جبکہ ایک اعلیٰ مقصد کے لئے انہوں نے یہ سفر اختیار کئے تھے تو اس آیت کے یہ معنے کرنا کہ وہ سفر کیوں کر رہے ہیں ان سفروں کو چھوڑیں اور بیٹھ کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں کسی طرح بھی درست معلوم نہیں ہوتا۔ہاں یوں یہ معنے درست ہو سکتے ہیں کہ ان معنوں کو زمانہ نبوی سے مخصوص قرار دیا جائے اور یہ کہا جائے کہ پہلے تو یہ سفر جائز تھے مگر اب تو مکہ والوں کو یہ سب کام چھوڑ کر صداقت محمدیت پرغور کرنا چاہئے اور زیادہ سے زیادہ دین کی خدمت میں لگ جانا چاہئے۔اگر یہ معنے کئے جائیں تو یقیناً درست ہیں۔چنانچہ دیکھ لو محمد رسول اللہ صل تعلیم کی بعثت کے بعد یہ سفر خود بخود بند ہو گئے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حج کو اتنا مقبول کر دیا کہ مکہ والوں کو باہر جانے کی ضرورت ہی نہ رہی۔وہیں بیٹھے بٹھائے اللہ تعالیٰ ان کو رزق دے دیتا ہے۔محمد رسول اللہ مال للعالم سے پہلے چونکہ مجتی کامل نہیں ہوئی تھی اس لئے مکہ والوں کو ان سفروں کی ضرورت پیش آتی رہتی تھی۔مگر محمد رسول اللہ علیم کی بعثت کے بعد تجلی الہی کامل طور پر ظاہر ہو گئی اس لئے اب یہ ضرورت نہیں تھی کہ مکہ والے سفر کریں۔اگر ہم اس آیت کے یہ محدود معنے کرلیں تو پھر کوئی اعتراض نہیں پڑتا۔ہم کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سفروں کو گلی برانہیں کہا بلکہ مکہ والوں کو اس امر کی 967