نُورِ ہدایت — Page 941
سکے کہ میں فلاں چیز کے لحاظ سے دین کو دنیا پر مقدم کر رہا ہوں۔اور اس عہد کا کوئی نہ کوئی مفہوم تو ہونا چاہئے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ عہد ہم سے صرف اتنا تقاضا نہیں کرتا کہ ہم کسی ایک پہلو میں دین کو دنیا پر مقدم کریں بلکہ ہر بات میں اور اپنے ہر کام میں ہمارا فرض ہے کہ ہم دین کو دنیا پر مقدم کریں۔مگر سوال تو یہ ہے کہ جو شخص اپنے ہر کام میں دین کو دنیا پر مقدم نہیں کر سکتا اسے کم از کم یہ تو کوشش کرنی چاہئے کہ وہ کسی ایک کام میں ہی دین کو دنیا پر مقدم رکھے تا کہ وہ کہہ سکے کہ میں اس عہد کو پورا کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔یہ کوشش خواہ وہ مال کے لحاظ سے کرے، خواہ تجارت کے لحاظ سے کرے، خواہ پیشہ کے لحاظ سے کرے، خواہ وطن کی محبت کے لحاظ سے کرے خواہ ملازمت کے لحاظ سے کرے، خواہ اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کے تعلقات کے لحاظ سے کرے، خواہ عبادت کے لحاظ سے کرے، خواہ قربانی اور ایثار کے لحاظ سے کرے، بہر حال کوئی ایک چیز تو ایسی ہونی چاہئے جسے وہ دنیا کے سامنے پیش کرسکتا ہو اور کہہ سکتا ہو کہ جن کاموں کا مجھے موقع ملا ہے ان میں میں نے دین کو دنیا پر مقدم کرلیا ہے اور جو باقی کام ہیں ان میں بھی میں پوری طرح تیار ہوں کہ اس عہد کے مطابق عمل کرنے کی کوشش کروں۔لیکن اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو اسے سمجھ لینا چاہئے کہ اس کا دعویٰ ایمان محض ایک منافقانہ فعل ہے جو اس کے کسی کام نہیں آسکتا۔تم قریش کے اس واقعہ پر غور کرو اور دیکھو کہ باوجود اس کے کہ یہ لوگ سچے دین کے حامل نہیں تھے، باوجود اس کے کہ یہ لوگ بت پرست تھے، باوجود اس کے کہ یہ لوگ بے دین تھے۔انہوں نے کتنی عظیم الشان قربانی کی۔یہ لوگ اپنی قوم پر بوجھ نہیں بنے۔انہوں نے کہا ہم خدا کے لئے آئے تھے۔ہماری قوم کا کیا حق ہے کہ وہ ہماری خدمت کرے۔وہ خیمہ اٹھا کر مکہ سے باہر چلے جاتے۔باپ کے سامنے اس کا بیٹا مرتا، ماں کے سامنے اس کی بیٹی مرتی ، بیوی کے سامنے اس کا خاوند مرتا ، بچوں کے سامنے ان کا باپ مرتا، دوست کے سامنے دوست اور رشتہ دار کے سامنے رشتہ دارم تا مگر کیا مجال کہ ان کی زبان پر کوئی شکایت آتی۔کیا مجال کہ وہ اس جگہ 941