نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 832 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 832

دوسرے معنے اس آیت کے یہ ہیں کہ ان پہلی تین مثالوں کی موجودگی میں خدا تعالیٰ کی طرف سے آنے والے دین یعنی الہامی دین کا یہ لوگ کس طرح انکار کر سکتے ہیں۔ان معنوں کے رُو سے یہاں دین کے معنے جزا سزا کے نہیں ہوں گے بلکہ دین کے معنے شریعت کے ہوں گے اور آیت کا یہ مفہوم ہوگا کہ ان دلائل کے بعد دین کے معاملہ میں کون شخص تیرا انکار کر سکتا ہے۔تیسرے معنے اس آیت کے یہ ہیں کہ ان دلائل کے بعد آیا کوئی بھی مذہبی دلیل تیرے خلاف پیش کی جاسکتی ہے۔یقیناً اگر وہ غور کریں تو انہیں تیری تکذیب کے لئے کسی مذہبی دلیل کا سہارا نہیں مل سکتا کیونکہ آدم ، نوع ، اور ابراہیم کی سنت تجھ سے پہلے موجود ہے۔جس معیار پر ان نبیوں کو پر کھا گیا اگر انہی دلائل پر تجھے پر کھا جائے تو تیری صداقت یقینا ثابت ہوگی۔چوتھے معنے اس آیت کے یہ ہیں کہ کیا اس کے بعد کوئی شخص بھی یہ سمجھ سکتا ہے کہ میں تدبیر کر کے تجھے جھوٹا ثابت کر دوں گا۔دین کے ایک معنے تدبیر کے بھی ہوتے ہیں۔پس آیت کا یہ مطلب ہوا کہ کیا اتنے بڑے نشانوں کے باوجود ہم نے تیری صداقت میں ظاہر کئے ہیں کوئی شخص یہ خیال بھی کر سکتا ہے کہ تو ہار جائے گا اور دشمن جیت جائے گا۔پانچویں معنے اس آیت کے یہ ہیں کہ تقویٰ قائم رکھتے ہوئے کون شخص تیری مخالفت کرے گا۔کیونکہ دین کے ایک معنے ورع یعنی تقویٰ اور روحانیت کے بھی ہیں۔اور مطلب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی خشیت اور اس کی سزا کا خوف اپنے دل میں رکھتے ہوئے اور تقویٰ اور روحانیت کی راہوں پر چلتے ہوئے کوئی شخص تیری مخالفت نہیں کرسکتا۔صرف وہی گندے اور نا پاک طبع دشمن تیری مخالفت میں کھڑے ہو سکتے ہیں جن کے اندر تقویٰ کا ایک شائبہ بھی نہ ہو اور جو نیکی اور روحانیت کے مقام سے ایسے ہی دُور ہوں جیسے مشرق سے مغرب دُور ہوتا ہے۔چھٹے معنے یہ ہیں کہ اب اس کے بعد کون اکراہ کے ساتھ تیری تکذیب کرے گا یعنی سابق دشمنوں کا انجام دیکھ کر پھر کون بدنیت ہوگا جو جبر کے ہتھیار سے تیرا مقابلہ کرنا چاہیے اور یہ خیال کرے کہ میں مار پیٹ کر سیدھا کرلوں گا پہلے نبیوں کو بھی مارنے پیٹنے کی دھمکیاں دی گئیں تھیں مگر کیا ان کے دشمن کامیاب ہو گئے دشمن کا اکراہ اس کے کسی کام نہ آیا اور اس کا جبر 832