نُورِ ہدایت — Page 747
نظری ہیں جن میں دنیا غلطیاں کھاتی ہے اور باہم اختلاف رکھتی ہے سو خدا تعالیٰ نے چاہا کہ بدیہی کاموں کی شہادت سے نظری کاموں کولوگوں کی نظر میں ثابت کرے۔پس یہ تو ظاہر ہے کہ سورج اور چاند اور دن اور رات اور آسمان اور زمین میں وہ خواص در حقیقت پائے جاتے ہیں جن کو ہم ذکر کر چکے ہیں۔مگر جو اس قسم کے خواص انسان کے نفس ناطقہ میں موجود ہیں ان سے ہر ایک شخص آگاہ نہیں۔سوخدا نے اپنے بدیہی کاموں کو نظری کاموں کے کھولنے کے لئے بطور گواہ کے پیش کیا ہے۔گویاوہ فرماتا ہے کہ اگر تم ان خواص سے شک میں ہو جو نفس ناطقہ انسانی میں پائے جاتے ہیں تو چاند اور سورج وغیرہ میں غور کرو کہ ان میں بدیہی طور پر یہ خواص موجود ہیں اور تم جانتے ہو کہ انسان ایک عالم صغیر ہے جس کے نفس میں تمام عالم کا نقشہ اجمالی طور پر مرکوز ہے۔پھر جب کہ یہ ثابت ہے کہ عالم کبیر کے بڑے بڑے اجرام یہ خواص اپنے اندر رکھتے ہیں اور اسی طرح پر مخلوقات کو فیض پہنچا رہے ہیں تو انسان جوان سب سے بڑا کہلاتا ہے اور بڑے درجہ کا پیدا کیا گیا ہے وہ کیونکر ان خواص سے خالی اور بے نصیب ہوگا۔نہیں بلکہ اس میں بھی سورج کی طرح ایک علمی اور عقلی روشنی ہے جس کے ذریعہ سے وہ تمام دنیا کو منور کر سکتا ہے اور چاند کی طرح وہ حضرت اعلی سے کشف اور الہام اور وحی کا نور پاتا ہے اور دوسروں تک جنہوں نے انسانی کمال ابھی تک حاصل نہیں کیا اس نور کو پہنچا تا ہے۔پھر کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ نبوت باطل ہے اور تمام رسالتیں اور شریعتیں اور کتابیں انسان کی مکاری اور خود غرضی ہے۔یہ بھی دیکھتے ہو کہ کیونکر دن کے روشن ہونے سے تمام راہیں روشن ہو جاتی ہیں۔تمام نشیب و فراز نظر آ جاتے ہیں۔سو کامل انسان روحانی روشنی کا دن ہے۔اس کے چڑھنے سے ہر ایک راہ نمایاں ہو جاتی ہے، وہ سچی راہ کو دکھلا دیتا ہے کہ کہاں اور کدھر ہے کیونکہ راستی اور سچائی کا وہی روز روشن ہے۔ایسا ہی یہ بھی مشاہدہ کر رہے ہو کہ رات کیسی تھکوں ماندوں کو جگہ دیتی ہے۔تمام دن کے شکستہ کوفتہ مزدور رات کے کنارِ عاطفت میں بخوشی سوتے ہیں اور محنتوں سے آرام پاتے ہیں اور رات ہر ایک کے لئے پردہ پوش بھی ہے۔ایسا ہی خدا کے کامل بندے دنیا کو آرام دینے کے لئے آتے ہیں۔خدا 747