نُورِ ہدایت — Page 65
سے حاصل ہوتا ہے۔اور فیض مالکیت یوم الدین خدا تعالیٰ کے فضل سے حاصل ہوتا ہے اور مالکئیت یوم الدین اگر چہ وسیع اور کامل طور پر عالم معاد میں متجلی ہو گی مگر اس عالم میں بھی اس عالم کے دائرہ کے موافق یہ چاروں صفتیں تجلی کر رہی ہیں۔ربوبیت عام طور پر ایک فیض کی بنا ڈالتی ہے اور رحمانیت اس فیض کو جانداروں میں گھلے طور پر دکھلاتی ہے اور رحیمیت ظاہر کرتی ہے کہ خط ممتد فیض کا انسان پر جا کر ختم ہو جاتا ہے اور انسان وہ جانور ہے جو فیض کو نہ صرف حال سے بلکہ منہ سے مانگتا ہے اور مالکیت یوم الدین فیض کا آخری شمرہ بخشتی ہے۔یہ چاروں صفتیں دنیا میں ہی کام کر رہی ہیں مگر چونکہ دنیا کا دائرہ نہایت تنگ ہے اور نیز جہل اور بے خبری اور کم نظری انسان کے شامل حال ہے اس لئے یہ نہایت وسیع دائرے صفاتِ اربعہ کے اس عالم میں ایسے چھوٹے نظر آتے جیسے بڑے بڑے گولے ستاروں کے دُور سے صرف نقطے دکھائی دیتے ہیں۔لیکن عالم معاد میں پورا نظارہ ان صفات اربعہ کا ہوگا۔اس لئے حقیقی اور کامل طور پر یوم الدین وہی ہو گا جو عالم معاد ہے۔اس عالم میں ہر ایک صفت ان صفاتِ اربعہ میں سے دوہری طور پر اپنی شکل دکھائے گی یعنی ظاہری طور پر اور باطنی طور پر اس لئے اس وقت یہ چار صفتیں آٹھ صفتیں معلوم ہوں گی۔اسی کی طرف اشارہ ہے جو فرمایا گیا ہے کہ اس دنیا میں چار فرشتے خدا تعالیٰ کا عرش اٹھا رہے ہیں اور اُس دن آٹھ فرشتے خدا تعالیٰ کا عرش اٹھائیں گے۔یہ استعارہ کے طور پر کلام ہے۔چونکہ خدا تعالیٰ کی ہر صفت کے مناسب حال ایک فرشتہ بھی پیدا کیا گیا ہے اس لئے چار صفات کے متعلق چار فرشتے بیان کئے گئے۔اور جب آٹھ صفات کی سجتی ہوگی تو ان صفات کے ساتھ آٹھ فرشتے ہوں گے۔اور چونکہ یہ صفات الوہیت کی ماہیت کو ایسا اپنے پر لئے ہوئے ہیں کہ گویا اُس کو اُٹھا رہے ہیں اس لئے استعارہ کے طور پر اُٹھانے کا لفظ بولا گیا ہے۔ایسے استعارات لطیفہ خدا تعالیٰ کی کلام میں بہت ہیں جن میں روحانیت کو جسمانی رنگ میں دکھایا گیا ہے۔غرض خدا تعالیٰ میں یہ چار صفات عظیمہ ہیں جن پر ہر ایک مسلمان کو ایمان لانا چاہیے اور جو شخص دُعا کے ثمرات اور فیوض 65