نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 667 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 667

قَدَّرَهُ عَلَى الشَّيي يعني قَدَّرَ الْإِنْسَانَ عَلَى الْهُدَى اللہ تعالیٰ نے انسان کو ہدایت پر قادر بنایا ہے۔یعنی اُسے اس قابل بنایا ہے کہ وہ ہدایت پائے اور ترقی کرے۔دوسرے معنوں کے لحاظ سے وَالَّذِي قَدَّرَ فَھدی کا یہ مفہوم ہو گا کہ جس نے انسان کی حالت کا ہمیشہ اندازہ لگایا۔کیونکہ قدر فلان کے معنے ہوتے ہیں رَوی وَفَكَّرَ فِي تَسْوِيَةِ أَمْرِه پس قدر فَهَدی کے معنے یہ ہوئے کہ جب کبھی خرابی پیدا ہوئی اللہ تعالیٰ نے اُس کوڈ ورکر نے کی تجویز کی۔اور اُس کا خرابی کو دور کرنے کی تجویز کرنا سرسری نہ تھا بلکہ ہمیشہ اُس نے اندازہ لگایا کہ خرابی کس قسم کی ہے، کتنی بیماری ہے اور کس قدر علاج سے وُہ دُور ہوسکتی ہے۔در حقیقت علاج میں اسی وقت کامیابی ہوتی ہے جب مرض کے مطابق علاج کیا جائے۔یہ کبھی نہیں ہوگا کہ ایک شخص کو معمولی ملیر یا بخار ہوتو ڈاکٹر اسے روزانہ ساٹھ گرین کو نین کھلانا شروع کردے لیکن ایک دوسرا شخص جسے شدید ملیر یا ہوا سے ڈاکٹر بعض دفعہ اتنی کونین کھلاتا ہے کہ اُس کے کان بہرے ہو جاتے ہیں۔اب اگر کوئی شخص کہے کہ فلاں شخص کو کونین زیادہ کیوں دی گئی اور فلاں کو کم کیوں تو یہ اُس کی نادانی ہوگی۔کیونکہ علاج مرض کے مطابق ہوتا ہے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ بھی ہمیشہ خرابی کے مطابق اصلاح کے سامان پیدا فرماتا ہے۔اور قدر فَهَدی میں اس طرف اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر مرض کے متعلق پہلے اندازہ لگایا کہ کیا مرض ہے۔وہ شدید ہے یا خفیف۔کتنے علاج سے وہ اچھی ہو سکتی ہے۔اور پھر اُس اندازہ کے مطابق علاج نازل کیا۔اقر کے ایک یہ معنی بھی تھے کہ قَاسَهُ بِهِ وَجَعَلَهُ عَلَی مِقْدَارِہ اُس نے ایک چیز کو دوسری چیز پر قیاس کیا اور اُس کے مطابق اُسے بنایا۔اس لحاظ سے آیت کے معنے یہ ہوں گے کہ انسان کی مرض اور اُس کے علاج کا موازنہ کر کے اللہ تعالیٰ نے اُس کی اصلاح اور درستی کے سامان مہیا کئے۔پہلے معنے تو یہ تھے کہ جس قسم کی مرض تھی اسی قسم کا علاج نازل کیا اور دوسرے معنے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مرض کا اندازہ کیا اور پھر جتنی مرض تھی اتنا علاج بھیج دیا۔ا خَلَقَ فَسَوی کے دو معنے کئے گئے تھے۔ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو 667