نُورِ ہدایت — Page 57
ان دونوں الفاظ کے مفہوم پر پوری طرح حاوی ہے۔اور وہ ان کا قائمقام ہوتا ہے مگر اس میں اصلاح ، آرائش اور زیبائش کا مفہوم ان سے زائد ہے۔چونکہ کفار بلا وجہ اپنے بتوں کی حمد کیا کرتے تھے اور وہ ان کی مدح کے لئے حمد کے لفظ کو اختیار کرتے تھے اور یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ وہ معبود تمام عطایا اور انعامات کے سرچشمہ ہیں اور سخیوں میں سے ہیں۔اسی طرح ان کے مردوں کی ماتم کرنے والیوں کی طرف سے مفاخر شماری کے وقت بلکہ میدانوں میں بھی اور ضیافتوں کے مواقع پر بھی اسی طرح حمد کی جاتی تھی جس طرح اس رازق، متولی اور ضامن اللہ تعالیٰ کی حمد کی جانی چاہئے۔اس لئے یہ (الحمد للہ) ایسےلوگوں اور دوسرے تمام مشرکوں کی تردید ہے اور فراست سے کام لینے والوں کے لئے ( اس میں ) نصیحت ہے۔اور ان الفاظ میں اللہ تعالیٰ بت پرستوں، یہودیوں، عیسائیوں اور دوسرے تمام مشرکوں کو سرزنش کرتا ہے۔گویا وہ یہ کہتا ہے کہ اے مشرکو! تم اپنے شرکاء کی کیوں حمد کرتے ہو اور اپنے بزرگوں کی تعریف بڑھا چڑھا کر کیوں کرتے ہو؟ کیا وہ تمہارے رب ہیں جنہوں نے تمہاری اور تمہاری اولاد کی پرورش کی ہے یا وہ ایسے رحم کرنے والے ہیں جو تم پر ترس کھاتے ہیں اور تمہاری مصیبتوں کو دور کرتے ہیں اور تمہارے دکھوں اور تکلیفوں کی روک تھام کرتے ہیں۔یا جو بھلائی تمہیں مل چکی ہے اس کی حفاظت کرتے ہیں۔یا مصائب کی میل کچیل تمہارے وجود سے دھوتے ہیں اور تمہاری بیماری کا علاج کرتے ہیں۔کیا وہ جزا سزا کے دن کے مالک ہیں؟ نہیں بلکہ وہ تو اللہ تعالی ہی ہے جو خوشیوں کی تعمیل کرنے، ہدایت کے اسباب مہیا کرنے، دُعائیں قبول کرنے اور دشمنوں سے نجات دینے کے ذریعہ تم پر رحم فرماتا اور تمہاری پرورش کرتا ہے۔اور اللہ تعالیٰ نیکوکاروں کوضرور اجر عطا کرے گا۔اور لفظ حمد میں ایک اور اشارہ بھی ہے اور وہ یہ کہ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے (میرے) بندو! میری صفات سے مجھے شناخت کرو اور میرے کمالات سے مجھے پہچانو۔میں ناقص ہستیوں کی مانند نہیں بلکہ میری حمد کا مقام انتہائی مبالغہ سے حمد کرنے والوں سے بڑھ 57