نُورِ ہدایت — Page 627
کرو بلکہ جوفکر کرنے والی چیز ہے وہ تمہاری کل ہے۔تمہارا اللہ تعالیٰ پر ایمان کا معیار اور اس کا تقویٰ اختیار کرنا تمہاری اصل ترجیح اور فکر ہونی چاہئے۔تمہارا مرنے کے بعد کی زندگی اور حساب کتاب پر ایمان تمہاری فکر کا مرکز ہونا چاہئے۔اور اگر یہ ہوگا تو تبھی تمہاری حقیقی اخلاقی ترقی بھی ہوگی جو صرف سطحی اخلاق نہیں ہوں گے بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے کا مقصود لئے ہوئے ہوں گے۔تمہاری روحانی ترقی اور یہ دعویٰ کہ میں مومن ہوں اسی وقت حقیقی ہوگا جب کل پر نظر ہوگی۔تمہارا یقینی، بے غرض اور سچائی پر مبنی خدا تعالی کی ذات پر ایمان بھی اُس وقت اللہ تعالیٰ کی نظر میں حقیقی ہوگا جب اپنے کل کو سامنے رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کی کوشش کرو گے اور اس کے حکموں پر عمل کرنے کی کوشش کرو گے۔جو پہلی آیت میں نے تلاوت کی ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس بارے میں فرماتے ہیں کہ : ”اے ایمان والو خدا سے ڈرتے رہو اور ہر یک تم میں سے دیکھتا رہے کہ میں نے اگلے جہان میں کونسا مال بھیجا ہے اور اس خدا سے ڈرو جو خبیر اور علیم ہے اور تمہارے اعمال دیکھ رہا ہے۔یعنی وہ خوب جاننے والا اور پر کھنے والا ہے۔اس لئے وہ تمہارے کھوٹے اعمال ہرگز قبول نہیں کرے گا۔“ ست بچن، روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 225_226) پس اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو ہم میں سے ہر ایک کو بڑے غور اور کوشش سے سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرتے ہوئے ہم اپنے اعمال پر نظر رکھیں۔ان باتوں پر نظر رکھیں جو ہماری کل سنوارنے والی ہیں۔اللہ تعالیٰ جو ہمارے دلوں کی پاتال تک نظر رکھنے والا ہے اور اسے ہمارا سب علم ہے اس کو صرف ان باتوں سے دھوکہ نہیں دیا جا سکتا جو سطحی باتیں ہیں بلکہ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ وہ کھوٹے کھرے کی تمیز کرتا ہے۔کھوٹے اعمال وہ قبول نہیں کرے گا۔پس ایک مومن کے لئے یہ بہت بڑا فکر کا مقام ہے کہ اپنے کل کی فکر کریں جہاں اعمال کا حساب ہونا ہے۔غیر مومنوں کی طرح ہم صرف اس دنیا ہی کو 627