نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 617 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 617

نہیں پہنچ رہا ہوتا۔اگر ہم گہری نظر سے دیکھیں تو جو بعض عمل انسان کرتا ہے انسان کی اپنی ذات کو ہی اُس کا فائدہ اور نقصان پہنچ رہا ہوتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے اُس کے کرنے یا نہ کرنے کا حکم دیا ہے۔جن کے نہ کرنے کا حکم ہے اُن کو کر کے انسان اللہ تعالی کی قائم کردہ حدوں کو پھلانگ رہا ہوتا ہے اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے جو اپنے حق قائم کئے ہیں اُن کو توڑ رہا ہوتا ہے اور پھر جن کے کرنے کا حکم ہے انہیں نہ کر کے اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے انسان باہر نکل رہا ہوتا ہے۔پس انسان کسی بھی کام کو اللہ تعالیٰ کے حکم کے خلاف کر کے یا نہ کر کے خدا تعالی کی حدوں کو توڑ کر تقویٰ سے دور ہٹتا چلا جاتا ہے اور جوں جوں تقویٰ سے دوری ہوتی ہے انسان شیطان کی جھولی میں گرتا چلا جاتا ہے۔اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ فرمایا ہے کہ ایک مومن نہ صرف یہ کہ اللہ تعالیٰ کی مرضی کے خلاف کام نہ کرے بلکہ شیطان جو چھپ کر حملہ کرتا رہتا ہے ان حملوں سے بھی آگاہ رہے۔ہر وقت اس کی نظر شیطان کے حملوں کی طرف ہو کہ کہیں وہ اُس پر حملہ آور نہ ہو جائے اور پھر اس آگاہی کی وجہ سے شیطان کے پوشیدہ حملوں سے اپنے آپ کو بچائے۔شیطان کے حملے مختلف طریقوں سے ہوتے ہیں۔اس زمانے کی ایجادات میں بھی بہت سی ایسی ہیں جو خود انسان کو نقصان پہنچا رہی ہوتی ہیں۔اُن کے اچھے مقاصد کی بجائے وہ ایسے کاموں کے لئے استعمال ہو رہی ہوتی ہیں جہاں شیطان کے حملے کا خطرہ ہے یا شیطان کا حملہ ہو رہا ہوتا ہے۔عبادتوں سے دور لے جا رہی ہوتی ہیں۔اخلاق پر برا اثر ڈال رہی ہوتی ہیں۔بظاہر انسان سمجھتا ہے کہ یہ میرے ذاتی معاملات ہیں اور کسی کو کیا کہ میں جوا کھیلتا ہوں۔یا رات گئے تک انٹرنیٹ پر فلمیں دیکھتا ہوں اور ٹی وی دیکھتا ہوں یا اس قسم کے اور کام کرتا ہوں۔بہت سارے ایسے غلط کام انسان کرتا ہے اور اُس کے خیال میں کسی کو اُن سے غرض نہیں ہونی چاہئے کیونکہ وہ کسی کو براہ راست نقصان نہیں پہنچا ر ہے۔لیکن جو غلط کام ہے، جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق نہیں ہے، اُس کی مرضی کے خلاف ہے، وہ اسے پھر اللہ تعالیٰ کی عبادت سے بھی دُور لے جاتا ہے، اللہ تعالیٰ کے حق ادا کرنے سے بھی دُور لے جاتا ہے اور 617