نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 612 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 612

اسلام کا اصلی سر چشمہ اور اس کا حقیقی منبع اللہ تعالیٰ کی ذات پاک ہے جس کا نام السّلام ہے۔قرآن کریم میں اس مبارک نام کا مبارک ذکر اس کلمہ طیبہ میں آیا ہے۔هُوَ الله الذي لا إله إلا هو الملك القدوس السلام یعنی وہی اللہ ہے۔کوئی معبود اور کاملہ صفات سے موصوف اس کے سوا نہیں۔وہ حقیقی بادشاہ ہر ایک نقص سے منزہ ہ بے عیب و سلامت ہے۔اور اسلام کا حقیقی ثمرہ دارالسلام ہے۔جس کا آسمان و زمین اور درو دیوار اور اس کے تمام یار و غمگسار طیب ہوں گے۔اور ان کے میل جول میں سلامتی و سلام ہی ہوگا۔جیسے فرمایا۔وَتَحِيَّتُهُمْ فِيهَا سَلَمُ (يونس (11) (ماخوذ از حقائق الفرقان) حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: قرآن کریم میں خدا تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ تم یہ دیکھو تم نے کل کے لئے سامان کیا ہے یا نہیں بلکہ یہ فرمایا کہ یہ دیکھوکل کے لئے کیا سامان کیا۔کل کے لئے کچھ نہ کچھ سامان کرنا تو فطرتی بات ہے جو حیوانوں میں بھی پائی جاتی ہے۔کیڑے مکوڑوں میں بھی پائی جاتی ہے۔چیونٹی اور شہد کی مکھی خوراک جمع کر لیتی ہے۔اور بھی جاندار ہیں جو آئندہ کے لئے اندوختہ رکھتے ہیں۔اس صورت میں انسان سے یہ سوال کہ اس نے آئندہ کے لئے جمع کیا ہے یا نہیں؟ ایسا موٹا اور اتنا معمولی سوال ہے جو مذہب سے تعلق نہیں رکھتا۔یہ بات تو حیوانوں میں بھی پائی جاتی ہے۔بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا جمع کرتے ہو اور کہاں جمع کرتے ہو؟ حضرت مسیح ناصری علیہ السلام نے کیا عمدہ بات فرمائی کہ اپنا مال وہاں جمع کرو جہاں چوری کا طرہ نہیں۔یہی مطلب ہے وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ کا کہ دیکھو تم نے کل کے لئے کیا جمع کیا اور کہاں جمع کیا۔اگر تم نے اچھی جگہ کوئی چیز جمع کرائی تو وہ چیز بھی اچھی ہو گی۔اس لئے اصل سوال یہی ہے کہ کہاں جمع کرائی۔وہ چیز جس کے لئے کوئی خطرہ نہیں وہی ہو سکتی ہے جسے خدا تعالیٰ کے ہاں جمع کرایا جائے۔اور خدا تعالیٰ فرماتا ہے ہم انسان پر کوئی ظلم 612