نُورِ ہدایت — Page 580
اور وہ تاریخ اسلام میں محفوظ چلے آرہے ہیں۔چنانچہ ایک دفعہ شمالی سرحد پر جنگ ہو رہی تھی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس وقت مدینہ میں خطبہ دے رہے تھے۔خطبہ کے دوران اچانک آپ نے فرمایا يَا سَارِيَةَ الْجَبَلُ يَا سَارِيَةً الجبل۔اور یہ کہہ کر پھر خطبہ شروع کر دیا۔بعد میں حاضرین میں سے کسی نے عرض کیا یا امیر المومنین! آپ نے یہ کیا فرمایا تھا؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ خطبہ کے دوران اچانک میرے سامنے میدان جنگ کا وہ منظر آ گیا جہاں مسلمان سار یہ جرنیل کی سر کردگی میں لڑ رہے ہیں (ساریہ اس وقت مسلمان فوج کے سپہ سالار تھے ) اور میں نے دیکھا کہ وہ پہاڑ سے ہٹے ہوئے ہیں اور خطرہ تھا کہ دشمن مسلمان فوج کو گھیرے میں لے لے۔( کیونکہ مسلمان فوجوں کے مقابل پر دشمن کی تعداد بالعموم زیادہ ہوا کرتی تھی ) تو اس خطرے کے پیش نظر بے اختیار میں نے سردار شکر کو ہدایت دی۔يَا سَارِيَةَ الْجَبَلُ يَا سَارِيَةَ الْجَبَل۔اے ساریہ! پہاڑ کے دامن میں آجاؤ۔پہاڑ کے دامن میں آجاؤ۔یہ بات ہوئی اور ختم ہوگئی۔کچھ عرصے کے بعد ساریہ کی طرف سے پیغامبر خط لے کر آیا اور اس میں یہ سارا واقعہ درج تھا۔خط کا مضمون یہ تھا کہ اے امیر المومنین! گزشتہ جمعہ کے روز ایک عجیب واقعہ ہوا۔ہم جمعرات اور جمعہ کی درمیانی رات لڑتے رہے یہاں تک کہ دن نکل آیا اور لڑائی جاری رہی اور پھر ہم جمعہ کے وقت میں داخل ہو گئے۔اس وقت ہمیں یہ خطرہ تھا کہ ہم دشمن سے شکست کھا جائیں گے اور پسپا ہوجائیں گے۔تو اچانک ہمیں آپ کی ( حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی ) آواز آئی يَا سَارِيَةَ الْجَبَل يَا سَارِيَةَ الجبل اور سارے لشکر نے یہ آواز سنی۔چنانچہ انہوں نے فوری طور پر پہاڑ کے دامن کا رخ اختیار کیا اور اس طرح اپنی پشت محفوظ کر لی۔( چھوٹی فوج کے لیے ہر سمت میں لڑنا مشکل ہوا کرتا ہے۔کوئی نہ کوئی سمت اس کی محفوظ ہونی چاہئے۔) اور پشت محفوظ ہوتے ہی بظاہر مغلوب ہونے والی فوج اچانک غالب آ گئی۔اس طرح وہ معرکہ مسلمانوں کے حق میں ثابت ہوا۔تاریخ انمیں جلد نمبر 2 صفحہ 270-271- تاریخ طبری جز 2 صفحہ 553، ذکر فتح جسا دستہ ثلاث وعشرین) 580