نُورِ ہدایت — Page 40
اور وہ اپنی تمام تر کوشش گمراہی اور فتنہ کے پھیلانے میں خرچ کرے۔پس اللہ تعالیٰ نے انبیاء کی بعثت کے ذریعہ اس کے لئے ناکامی اور تلخیاں مقدر کر رکھی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے اُسے ( شروع میں ) قتل تو نہیں کیا بلکہ اُسے اس وقت تک مہلت دے دی جب مُردے خدا تعالیٰ بزرگ و برتر کی اجازت سے دوبارہ زندہ کئے جائیں گے اور اس نے تعوذ میں الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ کے الفاظ رکھ کر اس کے قتل کی خبر دی ہے۔پس یہی وہ کلمہ ہے جو بشیر اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ سے قبل پڑھا جاتا ہے۔اور یہ رجیم وہی ہے جس کے حق میں ایک خاص وعید آئی ہے۔اس سے میری مراد وہ دنبال ہے جسے مسیح موعود ( قاتل دجال ) بلاک کرے گا اور رجیم کے معنے قتل کے ہیں۔جیسا کہ عربی زبان کی کتب لغت میں اس کی تصریح کی گئی ہے۔پس رجیم وہی دجل کرنے والا ہے جو آئندہ زمانہ میں بلاک کیا جائے گا۔یہ اس خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے جو اپنے بندوں کا لحاظ رکھتا ہے۔اور اللہ تعالیٰ کے الفاظ اٹل ہوتے ہیں۔پس خدائے رحیم کی طرف سے مسلمانوں کے لئے بشارت ہے اور اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ایک وقت دجال کو بلاک کیا جائے گا جیسا کہ لفظ رجیم سے واضح ہے۔(1) اس مقام میں رجم کے معنے جیسا کہ مجھے مخلوق کے رب کی طرف سے علم دیا گیا ہے۔(2) وہ کمینوں کو عاجز کرنا اور ایسے دشمنوں کو لاجواب کرنا ہے جو اندھیرے کی پناہ گاہ ہیں۔(3) اور ایسی ضرب لگانا ہے جو خصومت کو جڑ سے اکھیڑ دے ہماری مراد اس سے تلوار کی ضرب نہیں۔اب وہ زمانہ آ گیا ہے جس میں باطل ہلاک ہو جائے گا اور جھوٹ اور اندھیرا باقی نہیں رہے گا۔تمام مذاہب سوائے اسلام کے مٹ جائیں گے اور زمین انصاف، عدل اور نور سے بھر جائے گی جیسا کہ وہ پہلے ظلم ، کفر ، تعدی اور جھوٹ سے پڑ تھی۔پس اس وقت اس گروہ دنبال کوجس کی ہلاکت کا وعدہ پہلے سے دیا گیا ہے قتل کیا جائے گا۔اس جگہ قتل سے ہماری مراد صرف اس کی طاقت توڑ دینے اور اس کے قیدیوں کو آزاد کر دینے سے ہے۔40