نُورِ ہدایت — Page 382
نمبر ایک الوہیت، اللہ تعالیٰ کی ذات دوسرے نبوت اور تیسرے خلافت۔اور جب تک مومن اپنے اندر ایمان اور اعمال صالحہ پر توجہ دیتے رہیں گے اس چیز کو اپنے اندر قائم رکھیں گے اس ٹور کا سلسلہ لمبا ہوتا چلا جائے گا۔اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ہم خدا تعالیٰ کے نور سے ہمیشہ فیضیاب ہوتے چلے جانے والے بنتے چلے جائیں اور کبھی ہم خدا تعالی کے نور سے محروم نہ ہوں۔طبه جمع حضرت علی سیح الخامس ایدہ اللہ تعالی فرموده 4 دسمبر 2009ء، خطبات مسرور جلد ہفتم صفحه 561-569) حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے نور کے مضمون کو جاری رکھتے ہوئے 11 دسمبر 2009ء کے خطبہ جمعہ میں فرمایا: گزشتہ جمعہ میں اللہ تعالیٰ کی صفت نور کے حوالے سے مختلف لغوی معنی بیان کرنے کے بعد اہل لغت نے اپنی وضاحتوں کے لئے جو آیات قرآنیہ درج کی ہیں ان میں سے چند آیات کے کچھ حصے پیش کئے تھے اور سورۃ نور کی آیت الله نُورُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ (النور (36) کے حوالے سے کچھ وضاحت کی تھی۔جیسا کہ میں نے کہا کہ اہل لغت نے اپنے بیان کردہ مختلف معانی کو ثابت کرنے کے لئے آیات کے حوالے دیتے ہیں۔آج کے خطبہ میں ان میں سے ایک دو آیات کی وضاحت کروں گا جن کا حوالہ گزشتہ خطبہ میں دے چکا ہوں۔میں نے بتایا تھا کہ نُور پھیلنے والی روشنی کو بھی کہتے ہیں اور یہ ٹور بھی دو قسم کا ہے۔یعنی یہ روشنی جو پھیلتی ہے مفسرین کے نزدیک آگے اس کی پھر دو قسمیں ہیں۔ایک دنیوی ٹو رہے اور دوسرا اُخروی نُور ہے۔اور دنیوی ٹور پھر دو قسم کا ہے۔ایک ٹور کی قسم وہ ہے جس کا ادراک بصیرت کی نگاہ سے ہوتا ہے اس کا نام انہوں نے معقول رکھا ہے یعنی یقین اور عقل اور دانائی کی وجہ سے یہ ٹور ملتا ہے اور الہی امور میں یہ نور عقل اور نُورِ قرآن ہے۔اور دوسرا وہ نور ہے جس کو جسمانی آنکھ کے ذریعہ محسوس کیا جاتا ہے۔اس کو محسوس کہتے ہیں۔جیسے وہ ٹورجو چاند اور سورج اور ستاروں اور دیگر روشن اجسام میں پایا جاتا ہے۔نُورالہی کی مثال میں مفردات کے حوالے سے میں نے سورۃ مائدہ کی آیت اور سورۃ انعام کی آیات کا حوالہ دیا تھا۔جس کی تفصیل میں نے بیان نہیں کی تھی۔بہر حال جسمانی آنکھ کی 382