نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 369 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 369

پھر میں لغت کے کچھ حصے کی طرف آتا ہوں۔لسان میں لکھا ہے کہ بعض نے ولیم کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ مومنوں کو ثواب دینا۔اور ان کے نیک اعمال پر انہیں جزا دینا اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔پھر لکھا ہے ولی اللہ، اللہ کا دوست۔ولی میں مستقل مزاجی کے ساتھ اللہ کی اطاعت کرتے ہوئے کوئی کام کرنے کا مضمون پایا جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ کا چنیدہ اور مقبول بندہ ، اللہ تعالی کے مسلسل فضلوں اور انعامات کا مظہر ہوتا ہے۔الْوَلِيُّ وَالْمَوْلٰی، اس کی گرائمر کی تفصیلات چھوڑتا ہوں، آگے بیان ہے کہ مومن کو ولی اللہ تو کہہ سکتے ہیں لیکن مولی اللہ کہنا ثابت نہیں ہے۔مگر اللہ تعالیٰ کے متعلق وَلِيُّ الْمُؤْمِنِينَ وَمَوْلَاهُمُ دونوں طرح کہنا درست ہے۔پھر انہوں نے مختلف آیات کے حوالے سے آگے اس کی مزید وضاحت کی ہے۔مثلاً ذلِكَ بِأَنَّ اللهَ مَوْلَى الَّذِينَ آمَنُوا - سورۃ محمد کی آیت ہے۔پھر نِعْمَ الْمَوْلَى وَنِعْمَ النَّصِيرِ۔انفال کی آیت ہے۔پھر قُلْ يَأْيُّهَا الَّذِينَ هَادُوا إِنْ زَعَمْتُمْ أَنَّكُمْ أَوْلِيَاء لِلهِ مِنْ دُونِ النَّاس سورۃ جمعہ کی آیت میں ہے۔ثُمَّ رُقُوا إِلَى اللهِ مَوْلَهُمُ الْحَق۔سورۃ الانعام کی آیت ہے۔وَمَالَهُمْ مِنْ دُونِهِ مِنْ وَال- الرعد کی آیت ہے۔اس میں وَالٍ کے معنی والی کے ہیں۔پھر آگے انہوں نے ان آیات کے حوالے سے گرائمر کی بحث کی ہے۔تو اس بحث میں جانے کی بجائے میں آیات کو پیش کرتا ہوں۔پہلی آیت جو سورۃ محمد کی ہے وہ مکمل اس طرح ہے کہ ذلِكَ بِأَنَّ اللهَ مَوْلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَانَّ الْكَفِرِينَ لَا مَوْلى لَهُمْ (محمد (12) یہ اس لئے ہے کہ اللہ ان لوگوں کا مولیٰ ہوتا ہے جو ایمان لائے اور کافروں کا یقیناً کوئی مولی نہیں ہوتا۔اس آیت سے پہلے کی آیات میں سے ایک آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تَنْصُرُوا اللهَ يَنْصُرْكُمْ وَيُقيتُ أَقْدَامَكُمْ (محمد 8) کہ اے مومنو! اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدموں کو مضبوط کرے گا۔اس آیت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کے زمانہ کے مسلمانوں کو بھی نصیحت ہے اور تنبیہ بھی ہے کہ صرف ایمان لانا کافی نہیں ہوگا بلکہ اللہ 369