نُورِ ہدایت — Page 29
زمانہ کی بشارت دیتی ہے۔۔۔۔اسی طرح اس سورۃ میں بیان شدہ خبروں میں سے ایک خبر یہ بھی ہے کہ یہ سورۃ اس دنیا کی عمر بتاتی ہے۔۔۔۔یہ وہی سورۃ فاتحہ ہے جس کی خبر خدا تعالیٰ کے انبیاء میں سے ایک نبی نے دی۔اس نبی نے کہا کہ میں نے ایک قوی فرشتہ دیکھا جو آسمان سے اترا، اس کے ہاتھ میں سورۃ فاتحہ ایک چھوٹی سی کتاب کی شکل میں تھی اور خدائے قادر کے حکم سے اس کا دایاں پاؤں سمندر پر اور بایاں پاؤں خشکی پر پڑا اور وہ شیر کے غرانے کی مانند بلند آواز میں پکارا، اس کی آواز سے سات گرجیں پیدا ہوئیں جن میں سے ہر ایک میں ایک مخصوص کلام (جملہ ) سنائی دیا اور کہا گیا کہ ان گرجوں میں سے پیدا ہونے والے کلمات کو سر بمہر کردے اور انہیں مت لکھ۔خدائے مہربان نے ایسا ہی فرمایا ہے اور نازل ہونے والے فرشتہ نے اس زندہ خدا کی قسم کھا کر جس کے نور نے سمندروں اور آبادیوں کو روشن کیا ہے کہا کہ اس ( مسیح موعود ) کے زمانہ کے بعد اس شان و مرتبہ کا زمانہ نہ آئے گا۔اور مفسرین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ یہ پیشگوئی مسیح موعود کے زمانہ سے متعلق ہے۔سو اب وہ زمانہ آ گیا ہے اور سورۃ فاتحہ کی سات آیات سے وہ سات آواز میں ظاہر ہوگئی ہیں اور یہ زمانہ نیکی اور ہدایت کے لحاظ سے آخری زمانہ ہے اور اس کے بعد کوئی زمانہ اس زمانہ کی شان و مرتبہ کا نہیں آئے گا اور جب ہم اس دنیا سے رخصت ہو جائیں گے تو پھر ہمارے بعد قیامت تک کوئی اور مسیح نہیں آئے گا اور نہ ہی کوئی آسمان سے اترے گا اور نہ ہی کوئی غار سے نکلے گا۔سوائے اس موعود لڑکے کے جس کے بارہ میں پہلے سے میرے رب کے کلام میں ذکر آچکا ہے۔یہی بات سچ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو ( مسیح موعود ) آنے والا تھا وہ آگیا ہے اور زمین و آسمان اس پر گواہی دے رہے ہیں۔اعجاز مسیح روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 70-73) سورۃ فاتحہ کے اور نام بھی ہیں جن میں سے ایک سُورَةُ الحمد بھی ہے کیونکہ یہ سورۃ ہمارے رب اعلیٰ کی حمد سے شروع ہوتی ہے۔اور سورۃ فاتحہ کا ایک نام اُم القرآن بھی ہے کیونکہ وہ تمام قرآنی مطالب پر احسن پیرایہ 29