نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 351 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 351

الله ولى الَّذِينَ آمَنُوا فرماتا ہے۔اللہ مومنوں کا دوست اور مدد گار رہے۔اور وہ ایمان لانے والوں کو اندھیروں سے روشنی کی طرف لاتا ہے۔عربی زبان کے محاورہ میں کامیابی کی طرف لے جانے کو ظلمت سے نور کی طرف لے جانے سے تعبیر کیا جاتا ہے۔خواہ وہ کامیابی جسمانی ہو یا روحانی۔پس اس سے مراد مومنوں کی جماعت کو ہر قسم کی روحانی اور جسمانی کامیابیوں کی طرف لے جانا اور انہیں ہر قسم کی ناکامیوں اور تکالیف سے نجات دلانا ہے۔وَالَّذِينَ كَفَرُوا اَوْلِيَتُهُمُ الطَّاغُوتُ يُخْرِجُونَهُم مِّنَ النُّورِ إِلَى الظُّلُمتِ۔* یہاں طاغوت سے مراد وہ لوگ ہیں جو شیطان کے قائم مقام ہوتے ہیں۔وہ لوگوں کواس تھوڑی بہت ہدایت سے بھی جس پر وہ قائم ہوتے ہیں دُور پھینک دیتے ہیں۔یہ مت خیال کرو کہ کفار میں نور کہاں سے آیا۔رسول کریم علیم نے جب دعوی نہیں کیا تھا اس وقت ابو جہل ایسا برا نہیں تھا جیسا کہ اُس وقت تھا جب کہ وہ مارا گیا۔بات یہ ہے کہ صداقت کے انکار سے انسان کے قلب پر زنگ لگ جاتا ہے اور ہوتے ہوتے وہ تھوڑا بہت نور جو اس کے دل میں ہوتا ہے وہ بھی جاتا رہتا ہے۔يُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمتِ إِلَى النُّورِ میں خدا تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا ہے کہ جولوگ اللہ تعالیٰ کے ہو جاتے ہیں ان کو اللہ تعالیٰ بحیثیت قوم ترقی کی طرف لے جاتا ہے۔مگر چونکہ دنیا میں انسان کو قدم قدم پر مشکلات پیش آتی رہتی ہیں جن کو دیکھ کر بعض لوگوں کو یہ دھوکا لگ جاتا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی کامیابی کا وعدہ کیا ہے تو پھر انہیں مشکلات کیوں پیش آتی ہیں۔اس لئے یا درکھنا چاہئے کہ یہ وعدے قومی طور پر کئے گئے ہیں نہ کہ انفرادی طور پر۔پس انفرادی تکالیف اور مشکلات کو اس وعدہ کے خلاف نہیں سمجھنا چاہئے۔اگر کوئی شخص مارا جاتا ہے لیکن اس کے مرنے سے قوم کو فائدہ پہنچتا ہے تو وہ مرتا نہیں بلکہ زندہ ہوتا ہے۔ورنہ 351