نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 327 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 327

نشانوں کا سمندر ہے۔کسی نبی سے اس قدر معجزات ظاہر نہیں ہوئے جس قدر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کیونکہ پہلے نبیوں کے معجزات اُن کے مرنے کے ساتھ ہی مر گئے مگر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات اب تک ظہور میں آرہے ہیں اور قیامت تک ظاہر ہوتے رہیں گے جو کچھ میری تائید میں ظاہر ہوتا ہے دراصل وہ سب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات ہیں۔مگر کہاں ہیں وہ پادری یا یہودی یا اور قومیں جوان نشانوں کے مقابل پرنشان دکھلا سکتے ہیں؟ ہر گز نہیں ! ہر گز نہیں !! ہر گز نہیں !!! اگرچہ کوشش کرتے کرتے مر بھی جائیں تب بھی، ایک نشان بھی دکھلا نہیں سکتے۔کیونکہ ان کے مصنوعی خدا ہیں، سچے خدا کے وہ پیرو نہیں ہیں۔اسلام معجزات کا سمندر ہے اس نے کبھی جبر نہیں کیا اور نہ اس کو جبر کی کچھ ضرورت ہے۔(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 469،468) اسلام نے کبھی جبر کا مسئلہ نہیں سکھایا۔اگر قرآن شریف اور تمام حدیث کی کتابوں اور تاریخ کی کتابوں کو غور سے دیکھا جائے اور جہاں تک انسان کے لئے ممکن ہے تدبر سے پڑھا یا سنا جائے تو اس قدر وسعت معلومات کے بعد قطعی یقین کے ساتھ معلوم ہوگا کہ یہ اعتراض کہ گویا اسلام نے دین کو جب اپھیلانے کے لئے تلوار اٹھائی ہے نہایت بے بنیاد اور قابل شرم الزام ہے اور یہ ان لوگوں کا خیال ہے جنہوں نے تعصب سے الگ ہو کر قرآن اور حدیث اور اسلام کی معتبر تاریخوں کو نہیں دیکھا بلکہ جھوٹ اور بہتان لگانے سے پورا پورا کام لیا ہے۔مگر میں جانتا ہوں کہ اب وہ زمانہ قریب آتا جاتا ہے کہ راستی کے بھوکے اور پیاسے ان بہتانوں کی حقیقت پر مطلع ہو جائیں گے۔کیا اس مذہب کو ہم جبر کا مذہب کہہ سکتے ہیں جس کی کتاب، قرآن میں صاف طور پر یہ ہدایت ہے کہ : لا إكراه في التاينِ یعنی دین میں داخل کرنے کے لئے جبر جائز نہیں۔کیا ہم اس بزرگ نبی کو جبر کا الزام دے سکتے ہیں جس نے مکہ معظمہ کے تیرہ برس میں اپنے تمام دوستوں کو دن رات یہی نصیحت دی کہ شر کا مقابلہ مت کرو اور صبر کرتے رہو۔ہاں ! جب دشمنوں کی بدی حد سے گزرگئی اور دین اسلام کے مٹادینے کے لئے تمام قوموں نے کوشش کی تو اس وقت غیرت الہی نے تقاضا کیا کہ جولوگ تلوار اٹھاتے 327