نُورِ ہدایت — Page 311
چیز فائدہ اٹھا سکتی ہے جو پہلے اس سے اس کے نام حی سے فائدہ اٹھا چکی ہو۔کیونکہ خدا تعالی اپنی پیدا کردہ چیزوں کو سہارا دیتا ہے، نہ ایسی چیزوں کو جن کے وجود اور ہستی کو اس کا ہاتھ ہی نہیں چھوا۔پس جو شخص خدا تعالیٰ کو حتی یعنی پیدا کرنے والا مانتا ہے اسی کا حق ہے کہ اس کو قیوم بھی مانے۔یعنی اپنی پیدا کردہ کو اپنی ذات سے سہارا دینے والا۔لیکن جو شخص خدا تعالیٰ کو حتی یعنی پیدا کرنے والا نہیں جانتا اس کا حق نہیں ہے کہ اس کی نسبت یہ اعتقاد رکھے کہ وہ ان چیزوں کو ، ان کے رہنے میں سہارا دینے والا ہے۔کیونکہ سہارا دینے کے یہ معنے ہیں کہ اگر اس کا سہارا نہ ہو وہ چیزیں معدوم ہو جائیں۔اور ظاہر ہے کہ جن چیزوں کا اس کی طرف سے وجود نہیں وہ چیزیں اپنے بقائے وجود میں اس کی محتاج بھی نہیں ہوسکتیں اور اگر وہ بقائے وجود میں محتاج ہیں تو اس وجود کی پیدائش میں بھی محتاج ہیں۔غرض خدا تعالیٰ کے یہ دونوں اسم حتی و قیوم اپنی تاثیر میں ایک دوسرے سے تعلق رکھتے ہیں کبھی علیحدہ علیحدہ نہیں ہو سکتے۔پس جن لوگوں کا یہ مذہب ہے کہ خدا روحوں اور ذرات کا پیدا کرنے والا نہیں وہ اگر عقل اور سمجھ سے کچھ کام لیں تو اُن کو اقرار کرنا پڑے گا کہ خدا تعالیٰ ان چیزوں کا قیوم بھی نہیں۔یعنی وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ خدا تعالیٰ کے سہارے سے ذرّات یا ارواح پیدا ہوئے ہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے سہارے کی محتاج وہ چیزیں ہیں جو اس کی پیدا کردہ ہیں۔غیر کو جو اپنے وجود میں اس کا محتاج نہیں اس کے سہارے کی کیوں حاجت پڑ گئی ؟ یہ دعویٰ بے دلیل ہے۔(چشمه مسیحی، روحانی خزائن جلد 20 صفحه 362 ، 363) جاننا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کے قرآن شریف نے دو نام پیش کئے ہیں؛ آتی اور الْقَيُّوم - اتختی کے معنے ہیں خود زندہ اور دوسرں کو زندگی عطا کرنے والا، القیوم خود قائم اور وں کے قیام کا اصلی باعث۔ہر ایک چیز کا ظاہری، باطنی قیام اور زندگی، انہیں دونوں صفات کے طفیل سے ہے۔پس حتی کا لفظ چاہتا ہے کہ اس کی عبادت کی جائے جیسا کہ اس کا مظہر سورۃ فاتحہ میں اِيَّاكَ نَعْبُدُ ہے اور الْقَيُّوم چاہتا ہے کہ اس سے سہارا طلب کیا جاوے 311