نُورِ ہدایت — Page 216
نہیں بلکہ عربوں میں یہ طریق کلام رائج تھا اور ان کے بڑے بڑے شاعر بھی اسے استعمال کرتے تھے اور نثر میں بھی اس کا استعمال ہوتا تھا۔( مقطعات کے بارہ میں مزید تفصیلات کے لئے ملاحظہ ہو تفسیر کبیر ازحضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ) ذلِكَ الْكِتَبُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ۔ذلک۔اسم اشارہ ہے اور اشارہ بعید کے لئے آتا ہے جس کا ترجمہ اردو میں وہ ہے لیکن کبھی ھذا کے معنوں میں یعنی قریب کی چیز کی طرف اشارہ کرنے کے لئے بھی استعمال کر لیا جاتا ہے چنانچہ زجاج کا قول ہے ذلِك الكتب الى هذا الكتب عنى ذلك الكتب کے معنی ہیں یہ کتاب ( تاج العروس ) لیکن ذلک کو اشارہ بعید کے لئے تصور کرتے ہوئے بھی ذلت کے معنی یڈ کے کئے جاسکتے ہیں کیونکہ کبھی قریب کی چیز کے لئے دُور کا اشارہ اس کے فاصلہ کی دوری کے اظہار کے لئے نہیں بلکہ اس کی شان کی بلندی کے اظہار کے لئے بھی استعمال کر دیا جاتا ہے (فتح البیان) الكتب - ال اور کتاب کا مجموعہ ہے اور معنوں کے علاوہ ال حرف تعریف بھی ہے اس صورت میں یہ کبھی عہد کے لئے ہوتا ہے اور کبھی جنس کے لئے۔جب عہد کے لئے ہو تو کبھی ذکری ہوتا ہے اور کبھی ذہنی اور کبھی حضوری۔یعنی جس لفظ پر ال آئے کبھی تو اس سے یہ بتانا مقصود ہوتا ہے کہ یہ وہی امر ہے جس کا ذکر کر آئے ہیں۔اور کبھی یہ بتانا مقصود ہوتا ہے کہ ہماری مُراداس چیز سے ہے جو ہم اور تم دونوں اپنے دلوں میں جانتے ہیں۔اور کبھی یہ بتانا مقصود ہوتا ہے کہ یہ جو سامنے چیز پڑی ہے میں اسی کا ذکر کر رہا ہوں۔اور جب جنسی ہو تو استغراقی ہوتا ہے۔یعنی اس سے یہ مراد ہوتی ہے کہ اس جنس کے سب افراد اس لفظ میں شامل ہیں۔استغراقی آگے کبھی حقیقی ہوتا ہے جیسے خُلِقَ الْإِنسَانُ ضَعِيفًا۔انسان ضعیف ہی پیدا کئے گئے ہیں اور کبھی مجازی مجازی کی صورت میں ال لا کر یہ بتایا جاتا ہے کہ کامل فرد یہی ہے ورنہ حقیقتاً اس قسم کے اور افراد بھی موجود ہوتے ہیں۔216