نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 175 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 175

هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ۔یہ ایسی دعوت ہے کہ دعوت کا سامان پہلے سے طیار ہے۔الحكم جلد 9 نمبر 11 مؤرخہ 31 مارچ 1905 ، صفح؟؟؟) سورۃ بقرہ کے شروع میں ہی جو ھدی للمتقین کہا گیا تو گویا خدا تعالیٰ نے دینے کی تیاری کی یعنی یہ کتاب متقی کو کمال تک پہنچانے کا وعدہ کرتی ہے۔سواس کے معنی یہ ہیں کہ یہ کتاب اُن کے لئے نافع ہے جو پر ہیز کرنے اور نصیحت سننے کو تیار ہو۔اس درجہ کا متقی وہ ہے جو ٹھٹی بالطبع ہو کر حق کی بات سنے کو تیار ہو۔جیسے جب کوئی مسلمان ہوتا ہے تو وہ متقی بنتا ہے۔جب کسی غیر مذہب کے اچھے دن آئے تو اُس میں انتقا پیدا ہوا۔محجب، غرور، پندار دُور ہوا۔یہ تمام روکیں تھیں جوڈور ہوگئیں۔ان کے دُور ہونے سے تاریک گھر کی کھڑ کی کھل گئی اور شعاعیں اندر داخل ہوگئیں۔یہ جو فرمایا کہ یہ کتاب مُتَّقِین کی ہدایت ہے۔یعنی هدی لِلْمُتَّقِينَ تو اتقاء جو افتعال کے باب پر ہے اور یہ باب تکلف کے لئے آیا کرتا ہے یعنی اس میں اشارہ ہے کہ جس قدر یہاں ہم تقویٰ چاہتے ہیں، وہ تکلف سے خالی نہیں جس کی حفاظت کے لئے اس کتاب میں ہدایات ہیں۔گویا متقی کو نیکی کرنے میں تکلیف سے کام لینا پڑتا ہے۔جب یہ درجہ گزرجاتا ہے تو سالک عبد صالح ہو جاتا ہے گو یا تکلیف کا رنگ دور ہوا۔اور صالح نے طبعاً و فطرتا نیکی شروع کی وہ ایک قسم کے دارالامان میں ہے جس کو کوئی خطرہ نہیں۔اب گل جنگ اپنے نفسانی جذبات کے برخلاف ختم ہو چکی اور وہ امن میں آ گیا اور ہر ایک قسم کے خطرات سے پاک ہو گیا۔اسی امر کی طرف ہمارے بادی کامل نے اشارہ کیا ہے فرمایا کہ ہر ایک کے ساتھ شیطان ہوتا ہے لیکن میرا شیطان مسلم ہو گیا ہے۔سومشقی کو ہمیشہ شیطان کے مقابل جنگ ہے لیکن جب وہ صالح ہو جاتا ہے تو گل جنگیں بھی ختم ہو جاتی ہیں۔۔۔۔ایک متقی تو اپنے نفس اتارہ کے برخلاف جنگ کر کے اپنے خیال کو چھپاتا ہے اور خفیہ رکھتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ اس خفیہ خیال کو ہمیشہ ظاہر کر دیتا ہے۔جیسا ایک بدمعاش کسی بد چلنی کا مرتکب ہو کر خفیہ رہنا چاہتا ہے۔اسی طرح ایک متقی چھپ کر نماز پڑھتا ہے اور ڈرتا ہے کہ کوئی اس کو نہ دیکھ لے۔سچا متقی ایک قسم کا ستر چاہتا ہے۔تقویٰ کے مراتب بہت 175