نُورِ ہدایت — Page 139
خود اس کا حصہ بن گئی تو ائم القرآن اور ام الکتاب کہلانے کے بعد وہ قرآن عظیم کہلانے لگی۔اس دعا کے بارہ میں ایک اور نکتہ بھی یادرکھنے کے قابل ہے جسے صحابہ نے مدنظر رکھا اور ایک ایسا اعلیٰ درجہ کا نمونہ دنیا کے سامنے پیش کیا جس کی مثال دنیا کی کسی اور قوم میں نہیں مل سکتی اور اگر بعد کے مسلمان بھی اسے یادر کھتے تو یقیناً وہ بھی ایسا اعلیٰ درجہ کا نمونہ دکھاتے کہ دنیا کی تاریخ میں ان کا نام ہمیشہ کے لئے یاد گار رہ جاتا۔مگر افسوس کہ مسلمانوں نے اس زرین ہدایت کو جو اس آیت میں بیان کی گئی تھی بھلا دیا اور اس معیار سے گر گئے جس پر کہ اللہ تعالیٰ انہیں کھڑا کرنا چاہتا تھا۔اگر آج بھی مسلمان اس ہدایت کو اپنا مطمح نظر بنالیں تو سب تکلیفیں ان کی فور اڈور ہوسکتی ہیں اور پھر وہ بے مثال عزبات اور رفعت حاصل کر سکتے ہیں۔وہ سبق جو اس آیت میں بیان ہوا ہے یہ ہے کہ ہر قوم کا ایک مقصد ہوتا ہے اور وہ اس مقصد کے حصول کے لئے جد و جہد کرتی ہے۔اسی طرح دُنیا کی پیدائش کا بھی ایک مقصد ہے۔جو قوم اس مقصد کو پورا کر دے دُنیا کی پیدائش کا اصل مقصود کہلانے کی وہی قوم مستحق ہو گی۔آدم علیہ السلام دنیا میں آئے اور کچھ نیکیاں انہوں نے دنیا کو بتائیں۔اس زمانہ کے لوگوں کے لئے وہ نہایت اعلی تعلیم پر مشتمل تھیں۔ان نیکیوں پر عمل کر کے اس زمانہ کے لوگوں نے بہت بڑی روحانی اور اخلاقی تبدیلی پیدا کی اور ان کی ذہنی قوتیں پہلے لوگوں سے بہت آگے نکل گئیں۔مگر ابھی انسان اس کمال کو نہ پہنچا تھا جس کے لئے اسے پیدا کیا گیا تھا۔پس اس کی ترقی کے لئے جستجو جاری رہی یہاں تک کہ نوح علیہ السلام پیدا ہوئے اور وہ انسان کو ترقی کی بلندی پر ایک منزل اور اونچالے گئے۔مگر انسان نے گونوح علیہ السلام کے ذریعہ سے روحانی اور اخلاقی اور ذہنی طور پر ترقی کی مگر ابھی وہ مقصد حاصل نہ ہوا تھا جس کے لئے انسان کو پیدا کیا گیا تھا۔چنانچہ آپ کے بعد اور نبی آیا اور اس کے بعد اور۔اور اس کے بعد اور۔اور یہ سلسلہ چلتا چلا گیا یہاں تک کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ظاہر ہوئی اور آپ نے تمام راز ہائے سربستہ جو انسان پر اب تک پوشیدہ تھے ظاہر کر دئیے اور دینی اور ذہنی اور اخلاقی ترقی کے لئے جس قدر ضروری امور تھے وہ سب کے سب بیان کر دئیے اور گویا علمی طور پر مذہب کو 139