نُورِ ہدایت — Page 127
اسے اللہ تعالیٰ سے تکمیل ارادہ کے لئے دُعا کرنی چاہئے اور کہنا چاہئے کہ اے میرے رب میں تیری عبادت کا فیصلہ کر چکا ہوں۔مگر اس عہد کی تکمیل تیری امداد کے سوا نہیں ہو سکتی۔اس لئے تو میری مدد کر اور مجھے اس امر کی توفیق دے کہ تیرے سوا کسی کی عبادت نہ کروں۔عبادت کامل تذلیل کا نام ہے۔پس عبادت کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی صفات کو بندہ اپنے اندر پیدا کر لے۔عبادت کی ظاہری علامات صرف قلبی کیفیت کو بدلنے کے لئے مقرر ہیں۔ورنہ اس میں کوئی شک نہیں کہ عبادت دل کی کیفیت اور اس کے ماتحت انسانی اعمال کے صدور کا نام ہے اور خاص اوقات کی تعیین اور قبلہ رو ہونا اور ہاتھ باندھ کر کھڑا ہونا یا رکوع سجود کرنا یہ اصل عبادت نہیں بلکہ جسم کی ظاہری حالت کا اثر چونکہ دل پر ہوتا ہے اور توجہ بھی قائم ہوتی ہے اس لئے نماز کے لئے کچھ ظاہری علامات بھی مقرر کر دی گئی ہیں۔مگر وہ بمنزلہ برتن کے ہیں جس میں معرفت کا دودھ ڈالا جاتا ہے یا بطور چھلکے کے ہیں جس میں عبادت کا مغز رہتا ہے۔اس آیت میں اور بعد کی آیات میں جمع کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے۔یعنی یوں کہا گیا ہے کہ ”ہم عبادت کرتے ہیں“ اور ”ہم مدد مانگتے ہیں“ اور ”ہمیں سیدھا راستہ دکھا اس میں اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ اسلام ایک مدنی مذہب ہے وہ سب کے لئے ترقی چاہتا ہے نہ کہ کسی ایک شخص کے لئے۔اور یہ بھی کہ ہر مسلمان دوسرے کا نگران مقرر کیا گیا ہے۔اس کا یہی کام نہیں کہ وہ خود عبادت کرے بلکہ یہ بھی ہے کہ دوسروں کو عبادت کی تحریک کرے او راس وقت تک تحریک نہ چھوڑے جب تک وہ اس کے ساتھ عبادت کرنے میں شامل نہ ہو جائیں۔اور وہ آپ ہی اللہ تعالیٰ پر توکل نہ کرے بلکہ دوسروں کو بھی تو کل کی تعلیم دے اور اس وقت تک بس نہ کرے جب تک وہ تو کل میں اس کے ساتھ شامل نہ ہو جائیں اور وہ خود ہی ہدایت کا طالب نہ ہو بلکہ دوسروں کو بھی ہدایت طلب کرنے کی نصیحت کرے۔اور بس نہ کرے جب تک ان کے دل میں بھی ہدایت طلب کرنے کی تڑپ پیدا ہو کر وہ اس کے ساتھ شامل نہ ہو جائیں۔اور خود بھی ہر دعا میں ”میں“ کی جگہ ہم کا لفظ استعمال نہ کرنے لگیں۔یہی تبلیغی اور تربیتی روح ہے جس نے اسلام کو چند سالوں میں کہیں کا کہیں پہنچا دیا۔اور ا گر آج مسلمان ترقی کر 127